بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌کا‌وکیل

اجنبی‌اور‌نامحرَم‌مردوں‌کو‌لڑکی‌کے‌پاس‌وکیل‌بناکر‌بھیجنا‌خلافِ‌غیرت‌ہے

سوال:۔

ہمارے یہاں رواج ہے کہ جب کسی گھر میں لڑکی کی منگنی کی جاتی ہے تو دس بیس آدمی یا کم و بیش لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی والے کے گھر جاتے ہیں، ساتھ ہی کافی مقدار میں مٹھائی وغیرہ اور لڑکی کے لئے کئی جوڑے کپڑے اور جوتے، انگوٹھی لڑکی کو پہناتے ہیں، جو تھوڑی دیر کے بعد اُتار دیتے ہیں۔ اس کے بعد لڑکے والوں کی آمد و رفت خلافِ معمول کسی تکلف کے بغیر رہتی ہے۔ پھر شادی سے دو چار دن پہلے لڑکی کو کچھ مستورات لڑکے کے گھر سے آکر مایوں بٹھاتی ہیں اور لڑکی کے والدین لڑکی کے لئے جہیز وغیرہ بناتے ہیں۔ غرض مدعا یہ ہے کہ یہ سب باتیں ہوتی ہیں اور لڑکی کو اپنے رشتے اور نسبت کا پورا پورا علم ہوتا ہے اور وہ تمام معاملے میں خاموش رہتی ہے۔ اور ان تمام باتوں کو لڑکی منظور کرتی ہے، اس کی صاف دلیل یہ ہے کہ لڑکی کسی بات پر اِنکار نہیں کرتی تو بوقتِ نکاح بعض حضرات لڑکی کے پاس اجازت کے لئے دو گواہ بھیجتے ہیں جو کہ غیرمحرَم ہوتے ہیں اور غیرمحرَم عورتوں میں بلاجھجک جاتے اور لڑکی سے اجازتِ نکاح اور وکیل کا سوال کرتے ہیں، اکثر و بیشتر لڑکی خود نہیں بولتی، پڑوس والی عورتوں میں سے کوئی عورت کہہ دیتی ہے کہ لڑکی نے فلاں کو وکیل مقرّر کیا ہے، جبکہ لڑکی کا باپ، بھائی، چچا وغیرہ مجلس میں موجود ہوتے ہیں، بعض اوقات ایسے نام بھی وکالت کے لئے سامنے آتے ہیں جن کی ولیٔ اَقرَب کی موجودگی میں وکالت جائز بھی نہیں ہوتی، کیا یہ سب کچھ جائز ہے؟

جواب:۔

اجنبی اور نامحرَم لوگوں کا لڑکی کے پاس اِجازت کے لئے جانا خلافِ غیرت ہے۔ معلوم نہیں لوگ اس خلافِ غیرت و حیا رسم کو کیوں سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں؟ باپ لڑکی کا ولی ہے، وہی اس کی جانب سے نکاح کرنے کا وکیل اور مجاز بھی ہے،(۱) البتہ رشتہ طے کرنے اور مہر وغیرہ کے سلسلے میں لڑکی سے مشورہ ضرور ہونا چاہئے، اور یہ مشورہ لڑکی کی والدہ اور دُوسری مستورات کے ذریعے ہوسکتا ہے۔(۲) اور آج کل تو نکاح کے فارم میں تمام اُمور کا اِندراج ہوتا ہے، نکاح کے فارم پر دستخط کرنے سے لڑکی کی اجازت بھی معلوم ہوجاتی ہے، اس لئے اجنبی نامحرَم اَشخاص کو دُلہن کے پاس بھیجنے (اور ان کے دُلہن سے بے حجابانہ ملنے) کی رسم قطعاً موقوف کردینی چاہئے۔ شادی کی تیاری کے باوجود کنواری لڑکی کا اس پر خاموش رہنا اس کی طرف سے اجازت ہے۔

  1. (۱) الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسطۃ انثٰی علٰی ترتیب الْإرث۔ قال ابن عابدین: یقدم الأب ثم أبوہ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۳ ص:۷۶، باب الولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
  2. (۲) وھو السُّنَّۃ بأن یقول لھا قبل النکاح فلان یخطبک أو یذکرک۔۔۔ واستحسن الرحمتی ما ذکرہ الشافعیۃ من أن السُّنَّۃ فی الْإستئذان أن یرسل إلیھا نسوۃ ثقات ینظرن ما فی نفسھا والاُمّ بذٰلک أولٰی لأنھا تطلع علٰی ما لَا یطلع علیہ غیرھا۔ (شامی ج:۳ ص:۵۸، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔