نکاحکاوکیل
نکاحنامےپرصرفدستخط
سوال:۔
وکیل اور گواہان لڑکی کے پاس گئے اور موجودہ قوانین کے مطابق صرف نکاح نامے کے رجسٹر پر لڑکی کا دستخط لے لیا، وکیل نے لڑکی سے کوئی بات نہ کہی، نہ لڑکے کا نام لیا، نہ مہر کی رقم بتائی، نہ خود کو وکیل گردانا، نہ نکاح پڑھانے کی اجازت لی، صرف دستخط لے کر نکاح خواں کے پاس لوٹ آئے، اور دونوں گواہوں نے بھی صرف دستخط کرتے ہی دیکھا، سنا کچھ بھی نہیں، اور ایسی ہی حالت میں نکاح خواں نے بھی بغیر گواہوں سے دریافت کئے نکاح پڑھادیا اور لڑکی بھی رُخصت ہوکر سسرال چلی گئی، کیا شرعاً نکاح ہوگیا؟ اور اگر نہیں ہوا تو کیا صورتِ حال سامنے آئے گی؟
جواب:۔
نکاح کے فارم میں یہ ساری تفصیلات درج ہوتی ہیں، جنھیں پڑھ کر لڑکی نکاح کی منظوری کے دستخط کرتی ہے، اس لئے نکاح کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔(۱)
- (۱) والعلم للوکیل بالتوکیل (إلٰی قولہ) ویثبت العلم اما بالمشافھۃ أو الکتاب إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۱۴۰)۔

