بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌کا‌وکیل

بالغ‌لڑکے،‌لڑکی‌کا‌نکاح‌ان‌کی‌اجازت‌پر‌موقوف‌ہے

سوال:۔

لڑکے کی عمر تقریباً بیس بائیس سال ہے، لڑکی کی عمر اَٹھارہ تا بیس سال ہے، دونوں عاقل بالغ شرعی اعتبار سے خود مختار ہیں، ان کا نکاح اس طرح کرایا گیا ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے باپ کو مولوی صاحب نے اس طور سے ایجاب و قبول کرایا کہ لڑکی کے باپ سے مولوی صاحب نے پوچھا کہ: ’’تم نے اپنی لڑکی بہ عوض حق مہر ان صاحب کے بیٹے کے نکاح میں دی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ: ’’میں نے دی!‘‘ لڑکے کے باپ سے پوچھا کہ: ’’تم نے اپنے لڑکے کے واسطے قبول کی؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’قبول کی!‘‘ اس کے بعد لڑکا اور لڑکی ہر دو کے والدین نے اپنے بچوں کو اس نکاح سے مطلع نہیں کیا، اب لڑکا علیحدہ زندگی بسر کر رہا ہے، اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نکاح ہوا یا نہیں؟

جواب:۔

یہ نکاح تو ہوگیا، مگر لڑکے اور لڑکی دونوں کی اجازت پر موقوف رہا، اطلاع ہونے کے بعد اگر دونوں نے قبول کرلیا تھا تو نکاح صحیح ہوگیا، اور اگر ان میں سے کسی ایک نے انکار کردیا تھا تو نکاح ختم ہوگیا۔(۱)

  1. (۱) لَا یجوز نکاح أحد علٰی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرًا کانت أو ثیّبًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷، کتاب النکاح)۔ وفی البحر: والسُّنّۃ أن یستأمر البکر ولیھا قبل النکاح۔۔۔ وإن زوجھا بغیر إستئمار فقد أخطأ السُّنّۃ، وتوقف علٰی رضاھا، انتھٰی۔ وھو محمل النھی فی حدیث علم لَا تنکح الأیم حتّٰی تستأمر ولَا تنکح البکر حتّٰی تستأذن، قالوا: یا رسول اللہ! وکیف إذنھا؟ قال: أن تسکت، فھو بیان السُّنّۃ للإتفاق علٰی أنھا لو صرحت بالرضا بعد العقد نطقًا فانہ یجوز۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۱، کتاب النکاح، باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔