نکاحکاوکیل
کیاایکہیشخصلڑکی،لڑکےدونوںکیطرفسےقبولکرسکتاہے؟
سوال:۔
اگر کسی شادی میں لڑکی کا باپ نکاح میں کہے کہ: ’’میں لڑکی کے والد کی حیثیت سے اپنی لڑکی کا نکاح فلاں لڑکے سے کرتا ہوں‘‘ پھر کہے کہ: ’’لڑکے کے سرپرست کی حیثیت سے میں قبول کرتا ہوں‘‘ تین بار کہے تو کیا نکاح ہوگیا یا کہ نہیں؟
جواب:۔
جو شخص لڑکے اور لڑکی دونوں کی جانب سے وکیل یا ولی ہو، اگر وہ یہ کہہ دے کہ: ’’میں نے فلاں لڑکی کا فلاں لڑکے سے نکاح کردیا‘‘ تو نکاح ہوجاتا ہے۔(۱) یعنی اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ ایک بار یوں کہے کہ: ’’میں فلاں لڑکی کا فلاں لڑکے سے نکاح کرتا ہوں‘‘، اور دُوسری بار یوں کہے کہ: ’’میں اس لڑکے کی طرف سے قبول کرتا ہوں‘‘، اور تین بار دہرانے کی بھی ضرورت نہیں، صرف ایک بار گواہوں کے سامنے کہہ دینے سے نکاح ہوجائے گا۔
- (۱) (ویتولی طرفی النکاح واحد) بإیجاب مع القبول فی خمس صور کأن کان ولیا أو وکیلا من الجانبین۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۹۶، کتاب النکاح، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

