بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌کا‌وکیل

شوہر‌اور‌بیوی‌الگ‌الگ‌ملک‌میں‌ہوں‌تو‌تجدیدِ‌نکاح‌کس‌طرح‌کریں؟

سوال:۔

اگر کوئی نکاح کے ایک سال بعد اپنا نکاح دوبارہ کرنا چاہے، اور مرد ایک ملک میں اور عورت دُوسرے ملک میں ہو تو کیا یہ صورت ہوسکتی ہے کہ اس عورت سے مرد خط کے ذریعے معلوم کرلے کہ میں اپنا اور تمہارا نکاح کر رہا ہوں، اگر وہ اِجازت دیدے کہ میری طرف سے آپ وکیل مقرّر کرلیں یا خود اگر صرف خاوند کو اتنا بتادے کہ میری اِجازت ہے، نکاح پڑھ لیں، تو اگر شوہر بیوی کی طرف سے خود وکیل مقرّر کرے اور اسی مہر پر جتنا پہلے تھا، نکاح پڑھ لے تو کیا نکاح ہوجائے گا؟ نیز اگر منہ سے ایسی بات نکل جائے، جس سے نکاح ٹوٹ جائے اور اِیمان جاتا رہے، تو اگر بیوی پاس نہ ہو بلکہ کسی دُوسرے ملک میں ہو اور وہ خط کے ذریعے یا ٹیلی فون کے ذریعے اِجازت دے کہ تم نکاح دوبارہ پڑھ لو اور وکیل بھی خود مقرّر کرلو، تو کیا بیوی کی اس اِجازت پر نکاح ہوجائے گا؟

جواب:۔

اگر نکاح کی تجدید کی ضرورت ہو تو بیوی سے ٹیلی فون پر یا کسی اور ذریعے سے رابطہ قائم کرکے دریافت کیا جاسکتا ہے، اگر وہ اِجازت دیدے تو نکاح کی تجدید صحیح ہے، شوہر اس کی طرف سے وکیل بھی ہوجائے گا۔(۱)

  1. (۱) إمرأۃ وکلت رجلًا أن یزوّجھا من نفسہ فقال: زوجت فلانۃ من نفسی، یجوز وإن لم تقل قبلت کذا فی الخلاصۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۵، طبع بلوچستان)۔ وللوکیل أن یزوج مؤکلتہ من نفسہ، والمراد بالوکیل، الوکیل فی أن یزوجھا من نفسہ لما فی المحیط، لو وکلتہ بتزویجھا من رجل فزوجھا من نفسہ لم یجز۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۴۶، کتاب النکاح، فصل بعض مسائل الوکیل والفضولی، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔