نکاحکاوکیل
دُولہاکیغیرموجودگیمیںنکاح
سوال:۔
صوبہ سرحد کے دیہی علاقوں میں شادی کے موقعوں پر عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دُولہا کی غیرموجودگی میں نکاح پڑھایا جاتا ہے، اور دُولہا کی جگہ اس کا بھائی یا دوست وغیرہ اِیجاب وقبول کے الفاظ اس طرح ادا کرتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کے لئے یہ لڑکی قبول کرلی۔ کیا یہ نکاح جائز ہے؟
جواب:۔
کسی کی طرف سے وکیل بناکر اِیجاب وقبول صحیح ہے۔(۱)
- (۱) ویصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضر الشھود کذا فی التتارخانیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۴، کتاب النکاح، الباب السادس فی الوکالۃ)۔

