بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح‌کا‌وکیل

دُولہا‌کی‌موجودگی‌میں‌اس‌کی‌طرف‌سے‌وکیل‌قبول‌کرسکتا‌ہے

سوال:۔

اگر کوئی شخص اپنے نکاح کے وقت موجود ہو اور وہ نکاح کی مجلس میں نہ بیٹھے تو اس شخص کا نکاح اس کا بھائی یا کوئی سرپرست اس کی طرف سے وکیل بن کر قبول کرسکتا ہے؟

جواب:۔

اگر کوئی شخص اس کی طرف سے وکیل بن کر قبول کرلے تو نکاح ہوجائے گا۔(۱)

  1. (۱) ویصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضرہ الشھود کذا فی التتارخانیۃ۔ (عالمگیری، الباب السادس فی الوکالۃ، کتاب النکاح ج:۱ ص:۲۹۴)۔ ثم النکاح کما ینعقد بھٰذہ الألفاظ بطریق الْإصالۃ، ینعقد بھا بطریق النیابۃ بالوکالۃ والرسالۃ، لأن تصرف الوکیل کتصرف المؤکل۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۳۱، فصل فی رکن النکاح)۔