بغیرولیکیاجازتکےنکاح
والدینکیرضامندیکےبغیرنکاحسرےسےہوتاہینہیں،چاہےوکیلکےذریعہہویاعدالتمیں
سوال:۔
اگر لڑکا، لڑکی اپنی رضامندی سے شادی کرنا چاہتے ہوں، والدین آڑے ہوں اور لڑکی، لڑکا کورٹ نہ جاسکتے ہوں تو کیا کسی وکیل کے پاس جاکر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد کیا جاسکتا ہے؟
جواب:۔
عام طور پر ایسے نکاح جن میں والدین کی رضامندی شامل نہ ہو، یا والدین کے لئے ہتکِ عزّت کے موجب ہوں وہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتے، خواہ وکیل کے ذریعے سے ہوں یا عدالت میں ہوں۔(۱)
- (۱) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أیَّما امرأۃ نکحت نفسھا بغیر إذن ولیھا فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۰، باب الولی فی النکاح واستیذان المرأۃ، الفصل الثانی)۔ ان المفتٰی بہ روایۃ الحسن علی الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی ولم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۸ کتاب النکاح، باب الأولیاء، طبع بیروت)۔ وفی الدر المختار (ج:۳ ص:۵۶، طبع سعید کراچی) کتاب النکاح، باب الولیّ: ویفتٰی فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلًا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان۔

