بغیرولیکیاجازتکےنکاح
ولدالحرامسےنکاحکےلئےلڑکیاوراسکےوالدینکیرضامندیشرطہے
سوال:۔
ایک شخص نے شادی شدہ عورت اغوا کی تھی، جب اس نے عورت اغوا کی تھی تو اس کا کوئی بچہ وغیرہ نہ تھا، اور نہ ہی وہ حاملہ تھی۔ اس عورت کے اغوا کے دوران ایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوا اور ان کی پیدائش کے بعد اغواکنندہ کا عقدِ نکاح کیا گیااور پہلے خاوند نے طلاق دے دی اور اغوا کنندہ کو شرعی طور پر تعزیر دی گئی۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو بچہ اغوا کے دوران پیدا ہوا ہے، کیا اس لڑکے کا ایک نہایت شریف اور یتیم لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ حالانکہ وہ اغوا کنندہ کے نکاح کرنے سے پہلے پیدا ہوا ہے۔
جواب:۔
لڑکی اور لڑکی کے اولیاء اگر اس نکاح پر راضی ہوں تو نکاح ہوسکتا ہے، اور اگر ان میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو نکاح صحیح نہیں۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! ما إذنھا؟ قال: أن تسکت۔ ویدل علیہ حدیث ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الأیم أحق بنفسھا من ولیھا، والبکر تستأمر فی نفسھا وإذنھا صماتھا۔۔۔ فھٰذہ الأخبار کلھا تدل علٰی أن تزویج البکر لَا یجوز بغیر إذنھا۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۸۰، کتاب النکاح، طبع دار السراج، بیروت)۔ وفی البدائع الصنائع (ج:۲ ص:۳۱۸، طبع سعید کراچی) کتاب النکاح: لأن فی الکفائۃ حقًّا للأولیاء لأنھم ینتفعون بذالک۔۔۔ ولو کان التزوج برضاھم یلزم حتّٰی لَا یکون لھم حق الْإعتراض۔ وأیضًا فی الجوھرۃ النیرۃ ج:۲ ص:۷۷ طبع مکتبۃ حقانیۃ۔

