بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بغیر‌ولی‌کی‌اجازت‌کے‌نکاح

اپنی‌مرضی‌سے‌غیرکفو‌میں‌شادی‌کرنے‌پر‌ماں‌کے‌بجائے‌ولی‌عصبہ‌کو‌اعتراض‌کا‌حق‌ہے

سوال:۔

مارچ ۱۹۸۶ء کے ڈائجسٹ میں مضمون ’’شادی کیوں‘‘ کے مطالعے کا موقع ملا، دورانِ مطالعہ یہ مسئلہ نظر سے گزرا کہ لڑکی خود اگر اپنی مرضی سے شادی کرلے تو نکاح ہوجاتا ہے، لیکن اگر اس کی ماں یا ولی وارث اور سرپرست کو اس نکاح پر کفو کا اِعتراض ہے کہ اپنے جوڑ میں شادی نہیں ہے تو اِسلامی عدالت میں اس کا دعویٰ سنا جائے گا۔ اور اگر حقیقت میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس لڑکی نے ماں باپ کی مرضی کے خلاف غیرکفو میں شادی کی ہے تو قاضی اس نکاح کو فسخ کردے گا۔ اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ ظاہر الروایہ کا یہ مسئلہ غیرمفتیٰ بہ ہے، علماء میں سے متأخرینِ اَحناف نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے، اب مفتیٰ بہ یہی ہے کہ اگر بالغ لڑکی ولی عصبہ کی رضا کے بغیر غیرکفو میں نکاح کرے تو وہ نکاح اصلاً منعقد ہی نہیں ہوتا، اس کی تفصیلات کتبِ فقہ و فتاویٰ میں موجود ہیں۔

دُوسری بات اس میں قابلِ تصحیح یہ ہے کہ ماں کو اس صورت میں ظاہر الروایہ کے مطابق نہ اِعتراض کا حق ہے اور نہ ہی اس کی عدمِ رضا معتبر ہے، تو مضمونِ مذکور میں ماں کا لفظ قابلِ حذف ہے، صحیح یہ ہے کہ صرف ولی عصبہ کو غیرکفو میں نکاح کرنے پر ظاہر الروایہ کے مطابق حقِ اعتراض حاصل ہے۔ اور یہ بات پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ متأخرینِ اَحناف نے اس مسئلے میں روایت حسنؒ عن ابی حنیفہؒ کو مفتیٰ بہ قرار دیا ہے۔

جواب:۔

جناب کی یہ تنقید صحیح ہے، غیرکفو میں ولی کی اِجازت کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، لہٰذا ایسا نکاح کالعدم اور لغو تصوّر کیا جائے گا، اس کو فسخ کرانے کے لئے ولی کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں۔ یہی مفتیٰ بہ قول ہے۔(۱) اور یہ بھی صحیح ہے کہ ماں ولی نہیں، عصبات علی الترتیب ولی ہیں، مضمون نگار کو ان دونوں مسئلوں میں سہو ہوا ہے۔

نوٹ:۔عصبہ ان وارثوں کو کہا جاتا ہے جن کا وراثت میں کوئی حصہ مقرّر نہیں ہوتا بلکہ حصے والوں کے حصے ادا کرنے کے بعد جو مال باقی رہ جاتا ہے وہ ان کو دے دیا جاتا ہے،(۲) اور یہ عصبات علی الترتیب چار ہیں:

۱:۔ میّت کے فروع یعنی بیٹا، پوتا، نیچے تک۔

۲:۔ میّت کے اُصول یعنی باپ یا دادا، پَردادا اُوپر تک۔

۳:۔ باپ کی اولاد یعنی بھائی، بھتیجے، بھتیجوں کی اولاد۔

۴:۔ دادا کی اولاد، یعنی چچا، چچا کے لڑکے، پوتے۔(۳)

یہی عصبات علی الترتیب لڑکی کے نکاح کے لئے اس کے ولی ہیں۔(۴)

  1. (۱) ان المفتیٰ بہ روایۃ الحسن علی الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی ولم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۲۸، کتاب النکاح، باب الأولیاء، طبع دار المعرفۃ)۔
  2. (۲) والعصبۃ کل من یأخذ ما أبقتہ أصحاب الفرائض وعند الْإنفراد یحرز جمیع المال۔ (سراجی ص:۳، طبع ایچ ایم سعید)۔
  3. (۳) یحوز العصبۃ بنفسہ وھو کل ذکر (إلٰی قولہ) ما أبقت الفرائض أی جنسھا، وعند الْإنفراد یحرز جمیع المال بجھۃ واحدۃ، ثم العصبات بأنفسھم أربعۃ أصناف جزء المیت ثم أصلہ ثم جزء أبیہ ثم جزء جدّہ ویقدم الأقرب فالأقرب منھم بھٰذا الترتیب ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ج:۶ ص:۷۷۴)۔
  4. (۴) الولی فی النکاح۔۔۔ العصبۃ بنفسہ وھو من یتصل بالمیت۔۔۔ بلا توسطۃ أنثی۔۔۔ علٰی ترتیب الْإرث ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۷۶، باب الولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔