بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بغیر‌ولی‌کی‌اجازت‌کے‌نکاح

ولی‌کی‌اجازت‌کے‌بغیر‌اغواشدہ‌لڑکی‌سے‌نکاح

سوال:۔

کسی شخص نے کسی بالغہ لڑکی کو اغوا کرکے دو گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرّر کرکے نکاح کرلیا ہے، جبکہ یہ نکاح دونوں کے والدین و رشتہ داروں کے لئے بدنامی کا باعث ہے، نیز دونوں ہم کفو بھی نہیں، کیا یہ نکاح ہوا یا نہیں؟

جواب:۔

دُوسرے اَئمہ کے نزدیک تو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں، اور ہمارے اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کفو میں تو ہوجاتا ہے اور غیرِکفو میں دو روایتیں ہیں، فتویٰ اس پر ہے کہ نکاح نہیں ہوتا۔(۱) اس لئے اغواشدہ لڑکیاں جو غیرکفو میں والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرلیتی ہیں، چاروں فقہائے اُمت کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق ان کا نکاح فاسد ہے۔(۲)

  1. (۱) ان المفتٰی بہ روایۃ الحسن عن الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷ فصل فی الأکفاء طبع دار المعرفۃ)۔ أیضًا: نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولی، ولہ الْإعتراض فی غیر الکفؤ، وروی الحسن عن الْإمام عدم جوازہ، وعلیہ فتویٰ قاضی خان، وھٰذا أصح وأحوط، والمختار للفتویٰ فی زماننا۔ (مجمع الأنھر ج:۱ ص:۴۸۸ باب الأولیاء والأکفاء، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔
  2. (۲) إختلف العلماء ھل الولَایۃ شرط من شروط صحۃ النکاح أم لیست بشرط؟ فذھب مالک إلٰی أنہ لَا یکون نکاح إلّا بولیّ، وانھا شرط فی الصحۃ۔ وفی روایۃ أشھب عنہ، وبہ قال الشافعی، وقال أبو حنیفۃ وزفر والشعبی والزھری: إذا عقدت المرأۃ نکاحھا بغیر ولیّ وکان کفوًا جاز، وفرق داوٗد بین البکر والثیب فقال: بإشتراط الولیّ فی البکر وعدم إشتراط فی الثیب۔ (بدایۃ المجتھد لِابن رُشد ج:۲ ص:۶، ۷ کتاب النکاح، الفصل الأوّل فی الأولیاء، طبع المکتبۃ العلمیۃ لَاہور پاکستان، أیضًا: الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۷ ص:۸۲، طبع بیروت)۔