بغیرولیکیاجازتکےنکاح
بغیرگواہوںکےاوربغیرولیکیاجازتکےنکاحنہیںہوتا
سوال:۔
میں ایک کنواری، عاقل، بالغ، حنفی، سنی مسلمان لڑکی ہوں، میں نے ایک لڑکے سے خفیہ نکاح کرلیا ہے، نکاح اس طرح ہوا کہ لڑکے نے مجھ سے تین بار کہا کہ اس نے مجھے بہ عوض پانچ سو روپیہ حق مہر شرعی محمدی کے بموجب اپنے نکاح میں لیا، میں نے تینوں بار قبول کیا۔ اس ایجاب و قبول کا کوئی وکیل، کوئی گواہ نہیں۔ کسی مجبوری کے تحت ہم نکاح کی تشہیر بھی نہیں چاہتے۔ کیا شرعاً یہ نکاح منعقد ہوگیا کہ نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو کیسے ہوگا؟ براہ کرم آپ کا جواب خالصتاً فقہ کی رُو سے ہونا چاہئے۔
جواب:۔
یہ نکاح دو وجہ سے فاسد ہے، اوّل یہ کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لئے دو عاقل بالغ مسلمان گواہوں کا ہونا ضروری شرط ہے، اس کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، حدیث میں ہے:
’’البَغَايَا اللَّاتِي يَنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ۔‘‘ (البحر الرائق ج:۳ ص:۹۴)
ترجمہ:۔ ’’وہ عورتیں زانیہ ہیں جو گواہوں کے بغیر اپنا نکاح کرلیتی ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف، البحر الرائق ج:۳ ص:۹۴)
دُوسری وجہ یہ ہے کہ والدین کی اطلاع و اجازت کے بغیر خفیہ نکاح عموماً وہاں ہوتا ہے جہاں لڑکا، لڑکی کے جوڑ کا نہ ہو۔ اور ایسی صورت میں والدین کی اجازت کے بغیر نکاح باطل ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ:
’’عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ نَفْسَهَا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص:۲۷۰)
ترجمہ:۔ ’’جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا،ا س کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف، البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۸)
بہرحال آپ کا نکاح نہیں ہوا، آپ دونوں الگ ہوجائیں، اور اگر میاں بیوی کا تعلق قائم ہوچکا ہے تو اس لڑکے کے ذمہ آپ کا مقرّر کردہ مہر پانچ سو روپیہ لازم نہیں، بلکہ اس کے ذمہ مہرِ مثل لازم ہے۔(۱) مہرِ مثل سے مراد یہ ہے کہ اس خاندان کی لڑکیوں کا جتنا مہر عموماً رکھا جاتا ہے اتنا دِلوایا جائے۔(۲) بہرصورت آپ دونوں الگ ہوجائیں اور توبہ کریں۔
- (۱) ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۳۱، البحر الرائق ج:۳ ص:۱۶۹، طبع بیروت)۔
- (۲) والحُرّۃ مھر مثلھا الشرعی مھر مثلھا اللغوی أی مھر امرأۃ تماثلھا من قوم أبیھا لَا اُمّھا ان لم تکن من قومہ کبنت عمہ۔ (الدرالمختار ج:۳ ص:۱۳۷، باب المھر، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۳۳، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔

