بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بغیر‌ولی‌کی‌اجازت‌کے‌نکاح

والد‌یا‌دادا‌کے‌ہوتے‌ہوئے‌بھائی‌ولی‌نہیں‌ہوسکتا

سوال:۔

میں نے اپنی مرضی سے غیربرادری کے ایک شخص سے جو قبول صورت، صحت مند و دولت مند ہے، تعلیم میں مجھ سے کم ہے، اس نے ایک ہزار میرا حق مہر باندھا ہے، والدین سے چھپ کر نکاح کرلیا۔ میرے بھائی نے جو بالغ ہے، میری طرف سے شرکت کی۔ کیا یہ نکاح باطل ہے یا صحیح ہے؟ کیونکہ وہ اب مجھ سے ملنا چاہتا ہے مگر ابھی تک میں انکار کر رہی ہوں؟

جواب:۔

اگر آپ کے والد یا دادا زندہ ہیں اور انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے تو نکاح باطل ہے۔(۱) اور اگر باپ دادا موجود نہیں تو آپ کے بھائی ولی ہیں اور بھائی کی شرکت کی وجہ سے نکاح صحیح ہے۔(۲)

  1. (۱) الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسطۃ انثٰی علٰی ترتیب الْإرث۔ قال الشامی: یقدم الأب ثم أبوہ ثم الأخ الشقیق۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۷۶، باب الولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
  2. (۲) وإن المفتی بہ روایۃ الحسن عن الْإمام من عدم الْإنعقاد أصلًا إذا کان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۳۷، طبع بیروت)۔ وإذا زوجت المرأۃ نفسھا من غیر کفؤ فللأولیاء أن یفرقوا بینھما لأنھا ألحقت العار بالأولیاء۔ (المبسوط للسرخسی ج:۵ ص:۲۵، باب الأکفاء، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ وفی الدر المختار (ج:۳ ص:۵۶، طبع سعید کراچی) کتاب النکاح: ویفتٰی فی غیر الکفو بعدم جوازہ أصلًا وھو المختار للفتویٰ لفساد الزمان۔