بغیرولیکیاجازتکےنکاح
ولیکیاجازتکےبغیرلڑکیکیشادیکینوعیت
سوال:۔
محترم! کیا دِینِ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ایک بالغ لڑکی اپنی پسند کے مطابق کسی لڑکے سے شادی کرسکے، جبکہ والدین جبراً کسی دُوسری جگہ چاہتے ہوں، جہاں لڑکی تصوّر ہی نہ کرسکے اور مرجانا پسند کرے؟
جواب:۔
لڑکی کا والدین سے بالا بالا نکاح کرلینا شرافت و حیا کے خلاف ہے، تاہم اگر اس نے نکاح کرلیا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ لڑکا اس کی برادری کا تھا اور تعلیم، اخلاق، مال وغیرہ میں بھی اس کے جوڑ کا تھا، تب تو نکاح صحیح ہوگیا، والدین کو بھی اس پر راضی ہونا چاہئے، کیونکہ ان کے لئے یہ نکاح کسی عار کا موجب نہیں، اس لئے انہیں خود ہی لڑکی کی چاہت کو پورا کرنا چاہئے۔
دُوسری صورت یہ ہے کہ وہ لڑکا خاندانی لحاظ سے لڑکی کے برابر کا نہیں (اس میں بھی کچھ تفصیل ہے)، یا ہے تو اس کی برادری کا، مگر عقل و شکل، مال و دولت، تعلیم اور اخلاق و مذہب کے لحاظ سے لڑکی سے گھٹیا ہے، تو اس صورت میں لڑکی کا اپنے طور پر نکاح کرنا شرعاً لغو اور باطل ہوگا، جب تک والدین اس کی اِجازت نہ دیں۔(۱) آج کل جو لڑکیاں اپنی پسند کی شادیاں کرتی ہیں، آپ دیکھ لیجئے کہ وہ اس شرعی مسئلے کی رعایت کہاں تک کرتی ہیں؟
- (۱) ان المرأۃ إذا زوّجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء وإن زوّجت من غیر کفؤ لَا یلزم۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۴، باب الولی)۔ قال أبوجعفر: وإذا تزوجت المرأۃ البالغۃ الصحیحۃ العقل بغیر أمر ولیھا، فالنکاح جائز وإن کان کفوًا لھا، لم یکن للأولیاء أن یفرقوا بینھما، وإن کان غیر کفوٍ لھا، کان لِوَلیِّھا أن یفرقوا بینھما۔۔۔ والحجۃ لأبی حنیفۃ فی جواز عقدھا بغیر إذن الولی، من وجوہ ثلاثۃ: الکتاب، والسُّنَّۃ، والنظر، فأما الکتاب فقولہ: فلا تحل لہ من بعد حتّٰی تنکح زوجًا غیرہ، فإن طلّقھا فلا جناح علیھما أن یتراجعا، وھٰذہ الآیۃ تدل من وجھین علٰی صحۃ ما قلنا ۔۔۔إلخ۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۵۵، ۲۵۶، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔

