بغیرولیکیاجازتکےنکاح
’’ولی‘‘اپنےنابالغبہنبھائیوںکانکاحکرسکتاہےلیکنجائیدادنہیںہڑپکرسکتا
سوال:۔
اولاد کا ’’ولی‘‘ باپ ہوتا ہے، باپ کی وفات کے بعد بڑا بھائی ’’ولی‘‘ ہوگا، میں سب سے چھوٹا بھائی ہوں، شادی شدہ ہوں اور پانچ بچے بھی ہیں، والد کی وفات کے بعد سے میرا سب سے بڑا بھائی اور سب سے بڑی بیوہ بہن اس حد تک ’’ولایت‘‘ جگاتے رہے ہیں کہ پوری وراثت (جائیداد) پر قابض ہیں۔ میری بیوی بچوں کو آنے بہانے جھگڑے کھڑے کرکے ایک سال سے زائد عرصہ ہوا میرے سسرال بھجوانے پر مجبور کردیا۔ شاید اس کا گناہ مجھ پر بھی ہو کہ مارپیٹ کا ظلم بیوی پر میں نے کیا۔ میری بڑی بہن اور بڑے بھائی کی توقعات میرے سسرال والوں سے ان کے لڑکوں کے رشتوں کے لئے ہیں، جس دباؤ کے سبب مجھ سے بھی اپنی بیوی پر سختی کراتے ہیں، میرے بڑے بھائی بہن کی بیٹیاں جوان ہیں، کیا مجھے ان کی بات (حکم) ماننا چاہئے؟ کیا میرا بھائی بڑا ہونے کے سبب شرعی ’’ولی‘‘ ہے کہ اس کی ہر اچھی بُری بات میں مان لوں؟
جواب:۔
’’ولی‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نابالغ بہن بھائیوں کا نکاح کرسکتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ جائیداد پر قابض ہوکر بیٹھ جائے یا اپنے بھائی کی بیوی کو سسرال بھجوادے۔(۱) آپ اپنے بھائی سے الگ رہائش اختیار کریں اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھیں۔
- (۱) (الولی فی النکاح) لَا المال (العصبۃ بنفسہ) وقال الشامی: ثم لَا یخفی ان قولہ لَا المال علٰی معنی فقط أی المراد بالولی ھنا الولی فی النکاح سواء کان لہ ولَایۃ فی المال أیضًا کالأب والجد والقاضی أو لَا کالأخ لَا الولی فی المال فقط۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۷۶، باب الولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، باب الأولیاء والْإکفاء، شرکت علمیہ ملتان)۔

