بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بغیر‌ولی‌کی‌اجازت‌کے‌نکاح

والد‌کے‌علاوہ‌سب‌گھر‌والے‌راضی‌ہوں‌تو‌بالغ‌لڑکی‌کے‌نکاح‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

ایک عاقل بالغ لڑکی کا نکاح ہو، اور اس نکاح پر اس کا والد رضامند نہ ہو، اور باقی تمام اہلِ خانہ رضامند ہوں، اور اس کے والد کی غیرموجودگی میں اس کے بھائی اس کا نکاح کردیں، جبکہ خود لڑکی بھی رضامند ہو تو اس حال میں نکاح ہوجائے گا یا نہیں؟ مہربانی فرماکر قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں اس مسئلے سے آگاہ کریں۔

جواب:۔

اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور رشتہ موزوں ہے تو اپنے بھائی کو نکاح کا وکیل بناسکتی ہے، بھائی کا کیا ہوا نکاح صحیح ہوگا،(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) نفذ نکاح حُرّۃ مکلفۃ بلا ولی لأنھا تصرفت فی خالص حقھا وھی من أھلہ لکونھا عاقلۃ بالغۃ ولھٰذا کان لھا التصرف فی المال ولھا إختیار الأزواج وانما یطالب الولی بالتزویج کیلا تنسب إلی الوقاحۃ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۷، باب الأولیاء والأکفاء، طبع بیروت، أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۵۵ تا ۲۷۴، کتاب النکاح، مسألۃ جواز نکاح المرأۃ بغیر أمر ولیھا، طبع بیروت)۔