بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بغیر‌ولی‌کی‌اجازت‌کے‌نکاح

باپ‌کی‌غیرموجودگی‌میں‌بھائی‌لڑکی‌کا‌ولی‌ہے

سوال:۔

جب مسلمان کے گھر میں لڑکی جوان ہوجائے اور اس کے لئے مناسب رشتے بھی آتے ہوں لیکن لڑکی کے ماں باپ بضد ہیں کہ ہم لڑکی کا بیاہ نہیں کریں گے اور اس کے بَرخلاف لڑکی کا بڑا بھائی کہتا ہے کہ بہن کی شادی کردینی چاہئے لیکن ماں بالکل نہیں مانتی کہ میں بیٹی کی شادی نہیں کرنے دُوں گی اور لڑکی گھر پر بیٹھی رہے گی۔ اس ضمن میں لڑکی کے ماں باپ پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اور لڑکی کا بھائی اِصرار کرتا ہے کہ لڑکی کی شادی ضرور ہوگی، لیکن ماں باپ نہیں مانتے، تو اَب لڑکی کے بھائی کا خاموش رہنا بہتر ہے یا کہ سختی سے اس فرض کو پورا کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے؟

جواب:۔

لڑکی کے بھائی کا موقف صحیح ہے، والدین اگر بلاوجہ تأخیر کرتے ہیں تو گنہگار ہیں۔(۱) اور اگر باپ نہیں صرف ماں ہے تو لڑکی کا ولی حقیقی بھائی ہے، وہ لڑکی کی رضامندی سے عقد کراسکتا ہے، ماں کو اِعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔(۲)

  1. (۱) عن علی بن أبی طالب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ: یا علی! ثلاث لَا تؤخرھا: الصلٰوۃ إذا اٰنت، والجنازۃ إذا حضرت، والأیم إذا وجدت لھا کفوا۔ (ترمذی، باب ما جاء فی تعجیل الجنازۃ ج:۱ ص:۲۰۶)۔ أیضًا: عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: فی التوراۃ مکتوب: من بلغت إبنتہ اثنتی عشرۃ سنۃ ولم یزوّجھا فأصابت إثما فإثم ذٰلک علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱)۔ أیضًا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب إلیکم ممن ترضون دینہ وخلقہ فزوّجوہ، إن لَا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأوّل)۔
  2. (۲) الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ بلا توسطۃ أنثٰی علٰی ترتیب الْإرث۔ قال الشامی: یقدم الأب ثم أبوہ ثم الأخ الشقیق۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۷۶، باب اولی، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۱۶، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔