بغیرولیکیاجازتکےنکاح
ولیکیرضامندیصرفپہلےنکاحکےلئےضروریہے
سوال:۔
ایک لڑکی کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی، اس نے عدّت کے بعد تایازاد بہن کے لڑکے سے نکاح کیا، اس نے بھی طلاق دے دی، اور عدّت گزرنے کے بعد اس نے پہلے شوہر سے نکاح کرلیا، دوبارہ نکاح میں لڑکی کے رشتہ دار شامل نہ ہوسکے، کیونکہ صرف ماں راضی تھی۔ گو بھائی شامل نہ ہوں اور گواہ میں کوئی دُوسرے شامل ہوں تو نکاح ہوجاتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جو صورت آپ نے لکھی ہے اس کے مطابق پہلے شوہر سے نکاح صحیح ہے، خواہ بھائی یا رشتہ دار اس نکاح میں شامل نہ ہوئے ہوں، تب بھی یہ نکاح صحیح ہے۔ اولیاء کی رضامندی پہلی بار نکاح کے لئے ضروری ہے، اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کے لئے ضروری نہیں، کیونکہ وہ ایک بار اس شوہر سے نکاح پر رضامندی کا اظہار کرچکے ہیں۔ بلکہ اگر لڑکی پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو اولیاء کو اس سے روکنے کی قرآنِ کریم میں ممانعت آئی ہے۔(۱) اس لئے اگر بھائی راضی نہیں تو وہ گنہگار ہیں، لڑکی کا نکاح پہلے شوہر سے صحیح ہے۔
- (۱) قال اللہ تعالٰی: ﵟ وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ ﵞ۔ قال فی المظھری: المخاطب بہ الأولیاء (إلٰی قولہ) وفی لفظ الأزواج تجوز علٰی جمیع التقادیر فإنہ إطلاق بناء علٰی ما کان أو علٰی ما یؤول إلیہ۔ (والتفصیل فی التفسیر المظھری ج:۱ ص:۳۱۶)۔

