طریقِنکاحاوررُخصتی
کوننکاحپڑھانےکااہلہے؟
سوال:۔
مشہور شاعر فیض احمد فیض کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بھتیجی یا بھانجی کا نکاح خود بطورِ ’’قاضی‘‘ پڑھایا تھا۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایک عام مسلمان جس کے پاس قاضی وغیرہ کی مسند نہ ہو، کیا وہ نکاح پڑھا سکتا ہے؟ (اس زمانے میں جبکہ شادی کے اِخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اگر اِنسان خود ہی یہ فریضہ انجام دے لے، تو کتنے ہی جھمیلوں اور اِخراجات سے بچ سکتا ہے)۔
جواب:۔
نکاح اِیجاب وقبول کا نام ہے، اگر لڑکا لڑکی اِصالۃً یا وکالۃً گواہوں کی موجودگی میں اِیجاب وقبول کرلیں تو نکاح ہوجائے گا۔ اگر لڑکی کا والد لڑکے سے یوں کہہ دے کہ: ’’میں نے اپنی لڑکی مسماۃ فلاں کا نکاح بعوض اتنے روپے مہر کے تجھ سے کیا‘‘ اور لڑکا اس کو قبول کرلے تو نکاح ہوجائے گا۔(۱) البتہ نکاح خواں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔(۲)
- (۱) ویحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۳ ص:۹)۔ ویصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضر الشھود کذا فی التتارخانیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص: ۲۹۴، کتاب النکاح)۔ قالوا إذا زوّج ابنتہ البکر البالغۃ بأمرھا وبحضرتھا ومع الأب شاھد آخر صح النکاح ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۸، طبع رشیدیہ)۔
- (۲) وشرط فی الشھود أربعۃ اُمور: الحریۃ، والعقل، والبلوغ، والْإسلام، فلا ینعقد۔۔۔ بحضرۃ الکفار فی نکاح المسلمین لأنہ لَا ولَایۃ لھٰؤلَاء ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۹۵، کتاب النکاح، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

