طریقِنکاحاوررُخصتی
نکاحپڑھانےکاصحیحطریقہ
سوال:۔
میں نکاح خواں ہوں، اور اس طرح نکاح پڑھاتا ہوں: ایک وکیل، دو گواہان مقرّر کرکے ان کو لڑکی کے پاس بھیج دیتے ہیں، وہ وکیل دو گواہوں کے رُوبرو مقرّرہ حق مہر کے ساتھ شوہر کا نام لے کر اِجازت اور ساتھ میں دستخط لے لیتے ہیں۔ ان کے آنے کے بعد میں وکیل سے تین مرتبہ معلوم کرتا ہوں کہ آپ نے لڑکی سے اِجازت لے لی؟ پھر گواہوں سے کہتا ہوں کہ تم لوگ گواہ ہو کہ لڑکی نے تمہارے سامنے اِجازت دی ہے؟ وہ گواہ کہتے ہیں: جی ہاں لڑکی نے اِجازت دے دی۔ پھر میں وکیل سے کہتا ہوں کہ تم اپنی وکالت مجھے دے دو، یعنی بچی کی طرف سے اِجازت نامہ، میں نکاح پڑھاؤں، وکیل اِجازت دے دیتا ہے۔ پھر میں اس طرح اِیجاب وقبول کراتا ہوں، لڑکے کا نام لے کر متوجہ کرتا ہوں، پھر میں اس سے کہتا ہوں کہ مثلاً: شبیر احمد ولد بشیر احمد صاحب، مسمات شکیلہ بنتِ کمال الدین کو میں اپنی وکالت میں دو گواہوں کے رُوبرو مبلغ حق مہر ۵۰۰ روپے کے آپ کا نکاح کردیا ہے، آپ نے اس کو اپنے نکاح میں قبول کیا؟ وہ کہتا ہے: ہاں میں نے اپنے نکاح میں قبول کیا۔ اس طرح تین مرتبہ کہلواتا ہوں۔ آیا اس طرح نکاح صحیح ہوا؟ یعنی شریعت کے مطابق؟ اگر خدانخواستہ شریعت کے مطابق نہیں ہوا تو پھر آپ صحیح طریقہ تحریر فرمائیں، تاکہ آئندہ اسی کے مطابق نکاح پڑھایا جائے۔
جواب:۔
جب لڑکی کا ولی موجود ہے تو اس کی اِجازت کافی ہے، اس سے کہہ دیا جائے کہ وہ نکاح نامے پر دستخط کرا لائے۔(۱) ہاں کسی جگہ لڑکی کی اِجازت پر تردّد ہو، وہاں گواہوں کا مقرّر کرنا دُوسری بات ہے۔(۲)
- (۱) والعلم للوکیل بالتوکیل (إلٰی قولہ) ویثبت العلم اما بالمشافھۃ أو الکتاب إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۱۴۰)۔
- (۲) لَا تشرط الشھادۃ علی الوکالۃ بالنکاح بل علٰی عقد الوکیل وإنما ینبغی أن یشھد علی الوکالۃ إذا خیف جحد المؤکل إیاھا۔ (شامی ج:۳ ص:۹۵، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

