بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

رُخصتی‌میں‌تأخیر‌کا‌وَبال‌کس‌پر‌ہوگا؟

سوال:۔

اگر کسی لڑکی کا نکاح کردیا جائے اور اس کو رُخصتی کے اِنتظار میں تین سال تک گھر میں بٹھائے رکھا جائے تو شرعی قانون کے تحت کہاں تک جائز ہے؟ جبکہ شرعی طور پر اور دُنیاوی قانون کے تحت کوئی مجبوری بھی نہ ہو، محض یہ بہانہ بنایا جائے کہ ہم چونکہ دُھوم دھام سے رُخصتی کرانے کا اِرادہ رکھتے ہیں، اس لئے رقم حاصل ہوگی تب رُخصتی کریں گے۔ مزید یہ بھی بتائیے گا کہ نکاح کے بعد کتنے عرصے میں رُخصتی کروادینی چاہئے؟

جواب:۔

رُخصتی کے لئے کوئی وقت مقرّر نہیں کیا گیا، لیکن نکاح کے بعد رُخصتی میں بلاوجہ تأخیر نہیں ہونی چاہئے۔(۱) اور شادی یا رُخصتی میں دُھوم دھام کرنا، ناجائز ہے، اور یہ بہت سے محرّمات کا مجموعہ ہے، اس سے توبہ کرنی چاہئے۔(۲)

عن أبی سعید وابن عباس قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فیحسن اسمہ وادبہ فإذا بلغ فلیزوّجہ، فإن بلغ ولم یزوّجہ فأصاب إثمًا فإنما إثمہٗ علٰی أبیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱)۔

  1. (۱) عن علی بن أبی طالب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ: یا علی! ثلاث لَا تؤخرھا: الصلٰوۃ إذا اٰنت، والجنازۃ إذا حضرت، والأیم إذا وجدت لھا کفوا۔ (ترمذی، باب تعجیل الجنازۃ ج:۱ ص:۲۰۶)۔ وقد صرحوا عنہ بان الزوجۃ إذا کانت صغیرۃ لَا تطیق الوطیء لَا تسلم إلی الزوج حتّٰی تطیقہ، والصحیح أنہ غیر مقدور بالسن بل یفوض إلی القاضی بالنظر إلیھا من سمن أو ھزال۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۴۹، باب القسم، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷، طبع بلوچستان)۔
  2. (۲) وکرہ کل لھو أی کل لعب وعبث فالثلاثۃ بمعنی واحد کما فی شرح التأویلات والْإطلاق شامل لنفس الفعل واستماعۃ کالرقص والسخریۃ والتصفیق وضرب الأوتار من الطنبور ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۹۵، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔