بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

رُخصتی‌کتنے‌سال‌میں‌ہونی‌چاہئے؟

سوال:۔

لڑکی کی رُخصتی کردی جاتی ہے جبکہ لڑکے کی عمر صرف ۱۶ سال، لڑکی کی عمر ۱۴ یا ۱۵ سال ہوتی ہے، اس عمر میں رُخصتی کے انتہائی تباہ کن نتائج دیکھنے میں آئے ہیں، جن کی تفصیل یہاں ممکن نہیں۔ آپ مہربانی فرماکر یہ بتائیے کہ اتنی کم عمر میں رُخصتی جائز ہے؟

جواب:۔

شرعاً جائز ہے۔(۱) اور کوئی خاص رُکاوٹ نہ ہو تو لڑکے لڑکی کے جوان ہوجانے کے بعد اسی میں مصلحت بھی ہے، ورنہ بگڑے ہوئے معاشرے میں غلط کاریوں کے نتائج اور بھی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ حلال کے لئے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ۔۔۔جو محض فرضی ہیں۔۔۔ پر نظر کرنا، اور حرام کے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ۔۔۔جو واقعی اور حقیقی ہیں۔۔۔ پر نظر نہ کرنا، فکر و نظر کی غلطی ہے۔

  1. (۱) عن أبی سعید وابن عباس قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فیحسن اسمہ وادبہ فإذا بلغ فلیزوّجہ، فإن بلغ ولم یزوّجہ فأصاب إثمًا فإنما إثمہٗ علٰی أبیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۱)۔ ایضاً گزشتہ حاشیہ : عن علی بن أبی طالب...الخ۔