بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

نکاح‌اور‌رُخصتی‌کے‌درمیان‌کتنا‌وقفہ‌ہونا‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

کسی لڑکی کے نکاح اور رُخصتی میں زیادہ سے زیادہ کتنا وقفہ جائز ہے؟ بشرطیکہ کوئی معقول شرعی عذر موجود نہ ہو، صرف جہیز وغیرہ کے انتظامات کا مسئلہ ہو۔

جواب:۔

شریعت نے کوئی کم سے کم وقفہ تجویز نہیں کیا، البتہ جلدی رُخصتی کی ترغیب دی ہے،(۱) اس لئے جہیز کی وجہ سے رُخصتی کو ملتوی کرنا غلط ہے۔

  1. (۱) عن علی بن أبی طالب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ: یا علی! ثلاث لَا تؤخرھا: الصلٰوۃ إذا اٰنت، والجنازۃ إذا حضرت، والأیم إذا وجدت لھا کفوا۔ (ترمذی، باب تعجیل الجنازۃ ج:۱ ص:۲۰۶)۔ وقد صرحوا عنہ بان الزوجۃ إذا کانت صغیرۃ لَا تطیق الوطیء لَا تسلم إلی الزوج حتّٰی تطیقہ، والصحیح أنہ غیر مقدور بالسن بل یفوض إلی القاضی بالنظر إلیھا من سمن أو ھزال۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۴۹، باب القسم، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۷، طبع بلوچستان)۔