طریقِنکاحاوررُخصتی
خداکیکتاباورخداکےگھرکوبیچمیںڈالنےسےنکاحنہیںہوتا
سوال:۔
میں بنگلہ دیش میں رہتی تھی، ہمارا چھوٹا سا خاندان تھا، وہ سب جنگ میں ماراگیا، میں نے ایک گھر میں نوکری کرلی، وہاں ایک ڈرائیور تھا، بہت شریف خاندانی اور پڑھا لکھا۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم شادی کرلیتے ہیں، ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ خدا کی کتاب اور اللہ کا گھر ہے، اس کے سامنے کھڑے ہوکر ہم نے خدا کے سامنے وعدہ کیا کہ: ’’اے اللہ! ہم دونوں کا نکاح قبول فرما۔‘‘ پھر ہم دونوں نے ازدواجی زندگی بسر کرنا شروع کردی۔ ہمارا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا ہے تو وہ طریقہ بتلائیں کہ کسی طرح سے ہمارا نکاح ہوجائے۔
جواب:۔
آپ نے جس طرح نکاح کیا ہے، اس طرح نکاح نہیں ہوتا، دو مسلمان عاقل بالغ گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرنا ضروری ہے، موجودہ حالات میں تو آپ دونوں غلط کاری میں مبتلا ہیں۔ اگر آپ کسی عالم کے پاس جانے سے بھی شرماتے ہیں تو کم از کم دو مسلمان عاقل بالغ گواہوں کو بٹھاکر ان کے سامنے نکاح کا ایجاب و قبول کرلیجئے،(۱) اور مہر بھی مقرّر کرلیجئے۔(۲)
- (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول (إلٰی قولہ) عند حُرّین أو حُرّ وحُرّتین عاقلین بالغین مسلمین۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۹۴)۔
- (۲) ثم المھر واجب شرعًا ابانۃ لشرف المحل فلا یحتاج إلٰی ذکرہ لصحۃ النکاح۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۵۲، کتاب النکاح، باب المھر، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

