طریقِنکاحاوررُخصتی
قرآنمجیدپرہاتھرکھکربیویماننےسےبیوینہیںبنتی
سوال:۔
میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں، اتنی محبت کہ میں نے رُوحانی طور پر اسے اپنی بیوی مان لیا ہے، اور کچھ عرصہ پہلے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی بیوی مانا ہے، آپ بتائیے کہ کیا وہ لڑکی ایسا کرنے سے میری بیوی ہوگئی؟ اگر نہیں تو کیا کہیں اور شادی کرتے وقت مجھے اسے طلاق دینا ہوگی یا اس کی کوئی عدّت وغیرہ کرنی ہوگی؟
جواب:۔
قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر بیوی ماننے سے بیوی نہیں ہوجاتی۔(۱) چونکہ قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھنے سے دونوں کا نکاح نہیں ہوا اس لئے اس لڑکی کا نکاح دُوسری جگہ جائز ہے۔ اور آپ بھی والدین کی خواہش کے مطابق شادی کرسکتے ہیں۔ البتہ قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر آپ نے جو قسم کھائی تھی وہ ٹوٹ جائے گی،(۲) لہٰذا نکاح کے بعد دونوں اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیں۔(۳)
- (۱) بل یحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۹)۔
- (۲) ولَا یخفی ان الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینًا وقال ابن عابدین: اما فی زماننا فیمین وبہ نأخذ ونأمر ونعتقد۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۷۱۲، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
- (۳) اگر لڑکی نے بھی قسم کھائی ہے تو، ورنہ فقط لڑکے پر کفارہ ہوگا۔۱۲

