طریقِنکاحاوررُخصتی
بالغلڑکیاگرانکارکردےتونکاحنہیںہوتا
سوال:۔
میری ایک سہیلی کے والدین نے بچپن ہی میں یعنی تین چار سال کی عمر میں اس کے چچا کے لڑکے سے اس کی بات کی تھی، نکاح وغیرہ کچھ نہیں ہوا اور ابھی تک لڑکی کو کوئی علم نہیں تھا، اب وہ بالغ ہوچکی ہے اور وہ اپنے چچا کے لڑکے کو پسند نہیں کرتی بلکہ اس سے نفرت کرتی ہے اور لڑکی کے والدین کو بھی اس کا علم ہے، لیکن اس کے باوجود والدین اپنی جھوٹی غیرت اور زبان کی وجہ سے اس پر زبردستی کرتے ہیں اور اسے راضی کرتے ہیں، لیکن وہ کسی قیمت پر تیار نہیں۔ اب والدین کہتے ہیں کہ جیسا بھی ہو ہم اس کی شادی کریں گے یعنی زبردستی۔ تو کیا یہ نکاح ہوجائے گا جبکہ لڑکی لڑکے کو دِل سے نہ مانے اور کسی کے ڈَر کی وجہ سے وہ زبان سے ہاں کردے، دِل اس کا نہ چاہے؟ کیا اسلام میں لڑکی کو اپنی رائے کا حق نہیں؟ اور اگر یہ نکاح نہیں ہوتا اور شادی کے بعد یہ اپنے شوہر سے ملتی ہو تو اس کا گنہگار کون ہوگا والدین یا لڑکی؟
جواب:۔
اگر لڑکی نے زبان سے ’’ہاں‘‘ کہہ دی تو نکاح ہوجائے گا، اور اگر پوچھنے پر خاموش رہی تب بھی ہوجائے گا،(۱) اور اگر اِنکار کردیا تو نہیں ہوگا۔(۲) اسلام میں لڑکی کی رائے کا احترام ہے اور اس کی منظوری کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔(۳) اور والدین کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ لڑکی کی رائے کو ملحوظ رکھیں اور اپنی مرضی کو اس کی مرضی پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں، لیکن اگر لڑکی اپنی خواہش کے خلاف محض والدین کی عزّت کی خاطر والدین کی تجویز پر ہاں کردے تو نکاح ہوجائے گا۔(۴)
- (۱) ان الولی لو استأذنھا فی رجل معین فقالت یصلح أو سکتت ثم لما خرج قالت: لَا أرضی ولم یعلم الولی بعدم رضاھا فزوجھا فھو صحیحٌ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۹ باب الأولیاء والأکفاء)۔ عن أبی ھریرۃ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تنکح الثیب حتّٰی تستأمر، ولَا البکر إلّا بإذنھا، قالوا: یا رسول اللہ! ما إذنھا؟ قال: إن سکتت، ویدل علیہ حدیث ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الأیم أحق بنفسھا من ولیِّھا، والبکر تُستأمر فی نفسھا، وإذنھا صُماتھا۔۔۔ فھٰذا الأخبار کلھا تدل علٰی أن تزویج البکر لَا یجوز بغیر إذنھا۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۸۰)۔
- (۲) وقید بالسکوت لأنھا لو ردتہ ارتد۔ (البحر ج:۳ ص:۱۱۲)۔ عن أبی موسی الأشعری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تستأمر الیتیمۃ فی نفسھا فإن سکتتْ فقد أذنتْ وإن أنکرت لم تزوج۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۸۰)۔
- (۳) ولَا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح أی لَا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا۔ (البحر ج:۳ ص:۱۱۸)۔
- (۴) وینعقد بالْإیجاب والقبول۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷، طبع بیروت)۔

