بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

بالغ‌لڑکے‌کا‌نکاح‌اگر‌لڑکی‌گواہوں‌کی‌موجودگی‌میں‌قبول‌کرلے‌تو‌جائز‌ہے

سوال:۔

میرے دو قریبی عزیزوں نے آپس میں اپنے بچوں کے نکاح کا فیصلہ کیا، ایک صاحب کے تین بیٹے تھے، جن میں ایک لڑکا بالغ جبکہ دو لڑکے نابالغ تھے، جبکہ دُوسرے صاحب کی تین صاحبزادیاں تھیں، ان میں سے بھی ایک لڑکی بالغ تھی اور دو لڑکیاں نابالغ تھیں۔ بالغ لڑکے اور لڑکی اور نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے آپس میں نکاح کا فیصلہ ہوا۔ لڑکے والے بارات لے کر آئے، اور نکاح کے وقت نابالغوں کی طرف سے تو والدین نے اِیجاب وقبول کرلیا، بالغوں کے لئے بالغ لڑکے سے جو اس وقت موجود تھا، نکاح خواں نے پوچھا تو اس نے نکاح قبول کرلیا، لیکن قبل اس کے کہ نکاح خواں اپنے ساتھ گواہ لے کر لڑکی سے قبولیتِ نکاح پوچھنے اندر جاتا، لڑکے اور لڑکی کے والدین میں آپس میں سخت تنازع اُٹھ کھڑا ہوا، اور لڑکی والوں نے نکاح خواں کو لڑکی سے اِیجاب وقبول کروانے کے لئے جانے سے روک دیا، اور لڑکی کو بھی روک دیا کہ اگر کوئی آکر نکاح کا پوچھے بھی تو رَدّ کردینا کہ نکاح قبول نہیں۔ اب تنازع یہ ہے کہ لڑکے والے تینوں نکاحوں کو دُرست مانتے ہیں، جبکہ لڑکی والے دو نابالغ نکاح تو دُرست مانتے ہیں، لیکن بالغ لڑکی کے نکاح کو ماننے سے اِنکاری ہیں کہ لڑکی نے رُوبرو گواہوں کے اِقرار کی شرعی شرط پوری نہیں کی۔ اس صورتِ حال میں کیا بالغ جوڑے کا نکاح ہوگیا؟ کیا بالغ لڑکا لڑکی سے رُوبرو گواہان اِقرار لینا لازمی ہے یا والدین نابالغوں کی طرح ان کی طرف سے بھی بغیر ان سے رسمی اِجازت لئے اِیجاب وقبول کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

وہ نکاح جو دونوں نابالغوں نے اپنے والدین کی وساطت سے کئے، وہ تو صحیح ہیں۔(۱) اور بالغ لڑکے نے اِیجاب کیا، مگر لڑکی کی طرف سے قبول نہیں ہوا، یہ نکاح صحیح نہیں۔(۲) جب اِیجاب وقبول ہوگا تو نکاح صحیح ہوگا۔

  1. (۱) وللولی إنکاح الصغیر والصغیرۃ ولو ثیبًا ولزم النکاح ولو بغبن فاحش أو بغیر کفؤ إن کان الولی أبًا وجدًّا۔ (در المختار مع الرد المحتار ج:۳ ص:۶۶، طبع سعید کراچی، أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۹۲، طبع بیروت)۔
  2. (۲) وینعقد ملتبسًا بإیجاب من أحدھما وقبول من الآخر۔ قولہ ینعقد أی النکاح أی یثبت ویحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (شامی ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح)۔