بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

نکاح‌خواں‌اور‌ایک‌دُوسرے‌شخص‌کو‌نکاح‌کا‌گواہ‌بنانا

سوال:۔

میرے پڑوس والی میری سہیلی ہے، میرا نکاح اس طرح ہوا کہ نکاح والے دِن میرے شوہر شام کو ایک مولوی صاحب کے ساتھ آئے، میری سہیلی اور اس کا شوہر بھی ساتھ تھے، اس طرح میں، میرا شوہر، میری سہیلی اور ان کے شوہر، چار آدمی اور ایک مولوی صاحب، صرف پانچ آدمی تھے، شام کو مولوی صاحب نے ہمارا نکاح پڑھایا، پھر مٹھائی سب کو دِی، گواہوں کے نہ ہونے کی وجہ سے گواہوں کے دستخط نہیں ہوئے، ہم دونوں میاںبیوی نے دستخط کئے تھے، خدا اور رسولِ خدا کو گواہ بناکر نکاح کیا۔ میری سہیلی کہنے لگی کہ تم دونوں نے دستخط کردئیے، بس نکاح ہوگیا، ہم لوگ شامل ہوگئے، دستخط نہیں کریں گے گواہوں کی جگہ۔ مگر نکاح کے بعد مٹھائی کھاکر وہ لوگ مبارک باد دے کر چلے گئے۔ کیا اس طرح بغیر گواہوں کے ہمارا نکاح ہوگیا ہے؟

جواب:۔

جب آپ خود دونوں موجود تھے، تو مولوی صاحب اور سہیلی کا شوہر دو آدمی گواہ بن گئے، لہٰذا نکاح صحیح ہوگیا۔(۱)

  1. (۱) وشرط حضور شاھدین حُرّین۔۔۔ أی یشھدان علی العقد۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱،، طبع ایچ ایم سعید کراچی، أیضًا: شرح مختصر الطحاوی ص:۲۴۳، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔