بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

ایک‌دُوسرے‌کو‌شوہر‌اور‌بیوی‌کہنے‌سے‌نکاح‌نہیں‌ہوتا

سوال:۔

میں اپنے دِل میں خوفِ خدا اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رکھتی ہوں، کچھ عرصہ پہلے میری ایک ایسے لڑکے سے بات ہوئی تھی جس کی نیت میں فتور اور دھوکے بازی تھی۔ اس بات کا علم مجھے اور میرے والدین کو اَب ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نے دو مرتبہ اُسے کچھ لوگوں کے سامنے شوہر کہا تھا، اور اس نے بھی ایک مرتبہ مجھے اپنی بیوی کہا تھا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنا کہنے سے میرا اس سے نکاح ہوگیا؟ اگر ہوگیا تو مجھے اس سے نجات کیسے ملے گی؟ کیا اسی حالت میں میرا کسی اور کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ کیا اس کو تین مرتبہ اس کے منہ پر بھائی کہنے سے میں آزاد ہوجاؤں گی؟ میں قرآن اور خدا کے حضور اس کو بھائی مان چکی ہوں، میں بہت پریشان ہوں اور آپ سے اِلتجا کرتی ہوں کہ آپ مجھے اس سے نجات کی کوئی ترکیب بتادیں، خدا آپ کو اس کا اَجر دے گا۔

جواب:۔

نکاح کے لئے ضروری ہے کہ گواہوں کے سامنے لڑکے اور لڑکی کا اِیجاب وقبول کرایا جائے، خواہ اِصالۃً یا وکالۃً۔(۱) بغیر نکاح کے محض شوہر اور بیوی کہہ دینے سے میاںبیوی نہیں بن جاتے۔ اس لڑکے کے ساتھ آپ کے نکاح کا اِیجاب وقبول نہیں ہوا، اس لئے وہ لڑکا آپ کا شوہر نہیں، اور نہ اس سے گلوخلاصی کی ضرورت ہے۔ آپ دُوسری جگہ جہاں چاہیں، نکاح کرسکتی ہیں۔

  1. (۱) ولَا ینعقد نکاح المسلمین إلّا بحضور شاھدین حُرّین بالغین مسلمین رجلین أو رجل وامرأتین ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۰۵، ۳۰۶، کتاب النکاح، طبع شرکت علمیہ، شرح مختصر الطحاوی ج:۴ ص:۲۴۳ تا ۲۴۶، طبع بیروت)۔