بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

بیوہ‌سے‌اُس‌کی‌اولاد‌کی‌گواہی‌میں‌نکاح‌کرلیا‌تو‌جائز‌ہے

سوال:۔

میں ایک دُور افتادہ گاؤں کا باشندہ ہوں، میں نے وہاں ایک بیوہ سے اِیجاب وقبول اور حق مہر مقرّر کرکے اس کے تین جوان بالغ بیٹوں اور بیٹی جو کہ بالغ ہے، ان کی گواہی میں نکاح کرلیا، اور اپنی بیوی کو لے کر کراچی آگیا ہوں۔ نکاح کے لئے میں نے مولوی کو نہیں بلایا، کیونکہ فساد کا اندیشہ تھا۔ آپ فرمائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا مجھے دوبارہ مولوی سے نکاح پڑھوانے کی ضرورت ہے؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس کے مطابق نکاح ہوگیا، دوبارہ پڑھوانے کی ضرورت نہیں۔(۱)

  1. (۱) ویحصل انعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (شامی ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔