بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

شرعی‌گواہ‌کے‌بغیر‌نکاح‌ہوا‌ہی‌نہیں

سوال:۔

میرے والد میرے بچپن میں ہی فوت ہوگئے، اس لئے میں اب تک اپنی والدہ کی زیرِ کفالت رہی ہوں۔ تقریباً سوا دو سال قبل میں نے اپنی والدہ کی اِجازت اور رضامندی سے ایک مرد سے بالمشافہ نکاح کا اِیجاب وقبول کیا، نکاح کے گواہ ایک مرد اور ایک عورت (میری والدہ) ہیں۔ حق مہر ایک ہزار روپیہ مقرّر ہوا جو کہ میرے شوہر نے بروقت اَدا کردیا۔ کیا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے یا نہیں؟

سوال:۔

اپنے شوہر کے مسلسل تقاضوں کے باوجود میں نے کسی قسم کا تعلق قائم نہیں کیا، اس کی وجہ کوئی ناراضگی وغیرہ نہیں ہے۔ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ زن وشوہر کے تعلقات قائم رکھنے کے لئے کم از کم چار ماہ میں ایک بار تعلق قائم کرنا ضروری ہے، ورنہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۲۶ کے تحت یہ ’’ایلاء‘‘ ہے اور چار ماہ کی مدّت گزر جانے کے بعد خودبخود طلاق واقع ہوجاتی ہے اور نکاح باقی نہیں رہتا۔ آپ یہ فرمائیں کہ کیا واقعی چار ماہ میں ایک بار تعلق قائم کرنا ضروری ہوتا ہے؟ اور یہ کہ مندرجہ بالا صورت میں ہمارا نکاح اب تک قائم ہے یا ٹوٹ چکا ہے؟

جواب:۔

یہ نکاح نہیں ہوا، کیونکہ نکاح میں دو مردوں کا، یا ایک مرد اور دو عورتوں کا گواہ ہونا ضروری ہے۔(۱) اس لئے ایک مرد اور ایک عورت کی موجودگی میں جو نکاح کیا گیا، وہ نکاحِ فاسد ہے۔

جواب:۔

آپ کا نکاح ہوا ہی نہیں، اس کے ٹوٹنے یا باقی رہنے کا کیا سوال ہے؟ ویسے اگر چار مہینے یا اس سے زیادہ عرصہ میاںبیوی کی ’’مقاربت‘‘ نہ ہو تو نکاح نہیں ٹوٹتا۔ سورۂ بقرہ کی جس آیت کا حوالہ آپ نے دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر یہ قسم کھالے کہ وہ چار مہینے یا اس سے زیادہ اپنی بیوی کے قریب نہیں جائے گا، تو یہ ’’اِیلاء‘‘ کہلاتا ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ یا تو شوہر چار مہینے گزرنے سے پہلے پہلے اپنی قسم توڑ دے اور بیوی سے مقاربت کرلے، ورنہ چار مہینے گزرنے کے بعد اس کے قسم کھانے کی وجہ سے طلاق واقع ہوجائے گی۔(۲) لیکن اگر شوہر نے ایسی قسم نہ کھائی ہو تو خواہ کتنے ہی عرصے تک میاںبیوی نہ ملیں، طلاق نہیں ہوتی۔

  1. (۱) وشرط حضور شاھدین حُرّین أی یشھدان علی العقد۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱)۔ وقد روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أخبار بألفاظ مختلفۃ فی نفی النکاح بغیر شھود، وروی عن علی، وابن مسعود، وعمران بن حصین، وجابر، وأنس بن مالک، وأبی موسی الأشعری، وابن عمر، وأبی سعید، وأبی ھریرۃ کلھم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لَا نکاح إلّا بشاھدین بألفاظ مختلفۃ والمعنی واحد۔ (شرح مختصر الطحاوی ص:۲۴۳، کتاب النکاح، طبع دار السراج، بیروت)۔
  2. (۲) وإذا قال الرجل لِامرأتہ: واللہ لَا أقربک، أو قال:واللہ لَا أقربک أربعۃ أشھر فھو مول ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۴۰۱، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔