طریقِنکاحاوررُخصتی
صرفنکاحنامےپردستخطکرنےسےنکاحنہیںہوتا،بلکہگواہوںکےسامنےایجابوقبولضروریہے
سوال:۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے کوئی رشتہ دار نہ ہونے کی وجہ سے ہم نے کورٹ میں شادی کا فیصلہ کیا، اور ہم دونوں کورٹ گئے اور کورٹ کے باہر جو ٹائپسٹ بیٹھے ہوتے ہیں ان سے حلف نامے کے فارم پر نکاح نامہ ٹائپ کروایا اور میں نے دستخط کئے، جبکہ میرے شوہر نے دستخط نہیں کئے، اس نے اس کے بارے میں کہا: ’’میں مجسٹریٹ کے دستخط کے بعد دستخط کروں گا اور تمہیں مجسٹریٹ کے سامنے حلف دینا پڑے گا‘‘، میں خاموش ہوگئی، دُوسرے دن کہنے لگے کہ: ’’تم کو کورٹ نہیں جانا پڑے گا، میں نے ایک وکیل سے بات کرلی ہے وہ فیس لے کر مجسٹریٹ کے سائن کرادے گا۔‘‘ وہ گئے اور مجسٹریٹ کے سائن کرواکر لے آئے اور کہنے لگے کہ: ’’اب تم میری بیوی ہوگئی ہو، بیوی کے حقوق ادا کرو۔‘‘ میں نے کہا کہ یہ تو کوئی نکاح نہیں ہوا۔ کہنے لگے کہ: ’’تم نے دو گواہوں کے سامنے دستخط کردئیے، یعنی دو گواہوں کے سامنے اقرار کرلیا، اس لئے نکاح ہوگیا ہے۔‘‘ وہ دو گواہ ٹائپسٹ تھے جبکہ ان دونوں کے دستخط نہیں ہوئے تھے، اس وقت نہ ہی میرے شوہر کے دستخط ہوئے، ہم دونوں میں بحث ہوتی ہے، میں کہتی ہوں کہ نکاح نہیں ہوا، وہ کہتا ہے کہ نکاح ہوگیا ہے۔
جواب:۔
جو صورت آپ نے لکھی ہے اس سے نکاح نہیں ہوا، نکاح میں فریقین کی طرف سے گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول ہوا کرتا ہے، جو نہیں ہوا۔(۱) اب تک آپ لوگوں نے جو کچھ کیا ناجائز کیا، آئندہ حرام سے بچنے کے لئے باقاعدہ نکاح کرلیجئے۔
- (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول (إلٰی قولہ) عند حُرّین أو حُرّ وحُرّتین۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷، طبع بیروت)۔ ولَا ینعقد نکاح المسلمین إلّا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۰۶، کتاب النکاح، طبع شرکت علمیہ)۔ وفی الھندیۃ (ج:۱ ص:۲۶۸) کتاب النکاح: ومنھا سماع الشاھدین کلامھما معًا، ھٰکذا فی فتح القدیر۔

