بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

لڑکی‌کے‌قبول‌کئے‌بغیر‌نکاح‌نہیں‌ہوتا

سوال:۔

ایک لڑکا اور لڑکی آپس میں بہت پیار کرتے تھے اور دونوں کا شادی کا بھی ارادہ تھا، جب یہ سب کچھ لڑکی کے والدین کو معلوم ہوا تو لڑکی کے والدین نے لڑکی کی شادی دُوسرے لڑکے سے کرادی۔ جب لڑکی کا نکاح ہونے لگا تو لڑکی نے وکیلوں اور گواہوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لڑکی کے باپ نے جھوٹے وکیلوں اور گواہوں کے ساتھ سیٹ کر دیا، اسی جھوٹی گواہی سے مولوی صاحب سے نکاح پڑھوالیا۔ اب بتائیے کہ یہ نکاح جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اور ان دونوں میاں بیوی کی اولاد جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب:۔

عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح کو قبول کرنا ضروری ہے، بغیر اس کے نکاح نہیں ہوتا۔(۱) آپ کی تحریر کردہ صورت میں لڑکی نے نکاح کی اجازت بھی نہیں دی اور نکاح ہونے کے بعد اس کو مسترد کردیا، تو یہ نکاح نہیں ہوا۔ البتہ نکاح کے بعد اگر لڑکی نے زبان سے اس نکاح کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ خاموش رہی تھی اور پھر جب لڑکی کو رُخصت کیا گیا تو وہ چپ چپ رُخصت ہوگئی اور جس شخص سے اس کا نکاح کیا گیا تھا اس کو میاں بیوی کے تعلق کی اجازت دے دی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے والدین کے کئے ہوئے نکاح کو عملاً قبول کرلیا، لہٰذا نکاح صحیح ہوگیا اور اولاد بھی جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) ولَا یجوز للولی إجبار البکر البالغۃ علی النکاح۔ (فتح القدیر ج:۳ ص:۱۶۱، طبع دار صادر، بیروت)۔ وینعقد بإیجاب من أحدھما وقبول من الآخر۔ (درمختار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح، طبع سعید کراچی)۔
  2. (۲) لو إستأذنھا فی معین فردت ثم زوجھا منہ فسکتت جاز علی الأصح بخلاف ما لو بلغھا فردّت ثم قالت: رضیت حیث لَا یجوز لأن العقد باطل بالردّ۔ (فتح القدیر ج:۳ ص:۱۶۷، طبع بیروت)۔