بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

لڑکی‌کے‌صرف‌دستخط‌کردینے‌سے‌اجازت‌ہوجاتی‌ہے

سوال:۔

پندرہ دن پہلے میری شادی ہوئی تھی، نکاح کے وقت وکیل نے مجھ سے نکاح نامے پر صرف دستخط کرالئے، یہ نہیں پوچھا کہ ’’آپ کو فلاں لڑکا قبول ہے؟‘‘ اب میں بہت پریشان ہوں کہ آیا صرف دستخط کرنے سے نکاح ہوجاتا ہے یا وکیل کی طرف سے پورا جملہ بھی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے؟ اور کیا لڑکی کو بھی تین مرتبہ منہ سے ’’قبول ہے‘‘ بولنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ دستخط کرنے سے بھی نکاح ہوجاتا ہے بشرطیکہ لڑکی پر جبر نہ کریں اور وہ اپنی مرضی سے کرے۔ یہ بات میں واضح کردوں کہ نکاح نامے پر دستخط میں نے کسی دباؤ یا زور دینے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی، خوشی اور ہوش و حواس میں کئے تھے۔

جواب:۔

لڑکی کی طرف سے نکاح کی اجازت دی جاتی ہے، اور بغیر جبر و اِکراہ کے دستخط کردینے سے بھی اجازت ہوجاتی ہے،(۱) اس لئے نکاح صحیح ہے، دستخط کرنے کے بعد لڑکی کا تین بار منہ سے ’’قبول ہے‘‘ کہنا ضروری نہیں۔

  1. (۱) والعلم للوکیل بالتوکیل۔۔۔ ویثبت العلم إمّا بالمشافھۃ أو الکتاب إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۱۴۰)۔