طریقِنکاحاوررُخصتی
نکاحنامےپرنکاحسےقبلہیلڑکی،لڑکےکےدستخطکروالینا
سوال:۔
میں ایک عجیب اُلجھن میں گرفتار ہوں، وجہ یہ ہے کہ میرے بھائی کے بے اولاد ہونے کے پیشِ نظر میں نے اپنی بیٹی ان کو دے دی، میرے شوہر امریکا میں مقیم تھے، لہٰذا مجھے بھی امریکا جانا پڑا، میری بیٹی میرے بھائی کے گھر پڑھ لکھ کر جوان ہوئی، اگلے ماہ اس کی شادی ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ مجھے پاکستان آکر یہ پتا چلا کہ میرے بھائی نے میری بیٹی کی ولدیت میں میرے شوہر کے نام کی جگہ اپنے نام کا اِستعمال کیا ہے، اور تمام سرٹیفکیٹس وغیرہ پر بھی میرے بھائی نے اپنے نام کو بطورِ ولدیت اِستعمال کیا ہے۔ میری بیٹی کی شادی بھی عنقریب ہے، اور میں اپنے شوہر کے ساتھ چھٹیوں پر پاکستان آئی ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ولدیت بدل لینے سے کوئی گناہ لازم تو نہیں آتا؟ برائے مہربانی اس سلسلے میں کچھ وضاحت فرمادیں۔ اور دُوسری بات اس سے بھی زیادہ پریشانی کی معلوم ہوتی ہے کہ ابھی میری لڑکی کے نکاح میں ایک ماہ ہے، اور میرے پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی لڑکے والوں نے نکاح نامے پر میری بیٹی سے دستخط کروالئے ہیں، جبکہ باقاعدہ نکاح ابھی نہیں ہوا ہے۔
جواب:۔
نسب کا بدلنا اور ولدیت غلط لکھنا حرام ہے۔(۱) تاہم مجلسِ نکاح میں جب تمام لوگوں کو معلوم ہے کہ فلاں لڑکی کا نکاح ہو رہا ہے تو نکاح صحیح ہوجائے گا۔(۲) نکاح سے پہلے دُلہن کے دستخط کرانا، نکاح کے لئے گویا اُس کی منظوری لینا ہے، اس لئے اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، مگر عام طریقہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد دستخط کرائے جاتے ہیں۔
- (۱)۔۔۔ من ادعی إلٰی غیر أبیہ أو تولی إلیی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین، لَا یقبل منہ صرف ولَا عدل۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۱۹۴ طبع کراچی)۔ وأیضًا: من انتسب إلٰی غیر أبیہ أو تولّی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین۔ (کنز العمال ج:۶ ص:۱۹۳ حدیث رقم:۱۵۳۰۹)۔
- (۲) ولو کان الشھود یعرفونھا وھی غائبۃ فذکر الزوج إسمھا لَا غیر وعرف الشھود أنہ أراد بہ المرأۃ التی یعرفونھا جاز النکاح کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۸)۔

