طریقِنکاحاوررُخصتی
کیادُولہاکواِیجابوقبولکروانےوالاہیدُلہنسےاِجازتلے؟
سوال:۔
میں نکاح خواں بھی ہوں، عام طور پر دُلہن کے وکیل اور دو گواہ مقرّر کئے جاتے ہیں، اور وہ دُلہن سے اِیجاب کرکے آتے ہیں، اور پھر نکاح خواں دُولہا کو نکاح پڑھاتا ہے، قبول کراتا ہے، ہم نے ہمیشہ اسی طرح ہوتے دیکھا ہے، اور اَب خود بھی اسی طرح پڑھاتا ہوں۔ مگر کچھ لوگوں نے مجھے ایک کتاب کا حوالہ دیا کہ اس میں لکھا ہے کہ جو دُلہن کو اِیجاب کرائے وہی دُولہا کو قبول کرائے، وکیل کی اِجازت کافی نہیں ہے۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں صحیح طریقۂ کار کی وضاحت فرمادیں۔ نیز کسی کتبِ فقہ کا حوالہ بھی دے دیں تو بہتر ہوگا۔
جواب:۔
لڑکی کا ولی مجلس میں موجود ہوتا ہے، ولی خود اِجازت لے لے اور لڑکی کے دستخط کروالے، ولی کی اِجازت کافی ہے۔(۱)
- (۱) والعلم للوکیل بالتوکیل (إلٰی قولہ) ویثبت العلم اما بالمشافھۃ أو الکتاب إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۱۴۰)۔

