بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

نکاح‌کے‌لئے‌فارم‌کی‌کوئی‌شرط‌نہیں

سوال:۔

اگر کوئی لڑکی ایک ایسے نکاح نامے پر دستخط کردے جو کہ اصل نہ ہو، بلکہ فوٹواسٹیٹ ہو، اور اس پر گواہان اور وکلاء کے دستخط پہلے سے موجود ہوں، اور اس کے پاس اس وقت لڑکے کے سوا کوئی موجود نہ ہو، واضح رہے کہ لڑکے نے بھی اس کے سامنے دستخط کردئیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نکاح ہوگیا؟ اس فعل کی دِینی وقانونی حیثیت کیا ہے؟ نیز اگر وہ نکاح نامہ اصلی ہوتا تو صورتِ حال کیا ہوتی؟

جواب:۔

نکاح، اِیجاب وقبول کا نام ہے۔ پس جب تک مجلسِ نکاح میں گواہوں کے سامنے نکاح کا اِیجاب وقبول نہ ہو، محض نکاح نامے پر دستخط کرنے سے نکاح نہیں ہوتا۔ مجلسِ نکاح میں اِیجاب وقبول کرنے کے بعد خواہ نکاح نامے پر دستخط نہ کئے جائیں، نکاح ہوجاتا ہے۔ یا اگر گواہوں کے سامنے دستخط نہ کئے جائیں تب بھی نکاح صحیح ہے۔(۱)

  1. (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول عند حُرّین أو حُرّ وحُرّتین عاقلین بالغین مسلمین۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷، أیضًا: درمختار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی، طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)۔