بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

لڑکی‌کے‌دستخط‌اور‌لڑکے‌کا‌ایک‌بار‌قبول‌کرنا‌نکاح‌کے‌لئے‌کافی‌ہے

سوال:۔

ایک دن میری ہمشیرہ کا اور دُوسرے دن میری کزن کا نکاح ہوا، جس میں محلہ کے اِمام صاحب نے نکاح پڑھایا، مگر دُولہا سے دو مرتبہ پوچھا: ’’تمہیں قبول ہے؟‘‘ مگر دُلہن سے صرف ایک دستخط کرائے، استفسار پر جواباً فرمانے لگے کہ شریعت میں ایک مرتبہ پوچھنا ہوتا ہے دُوسری مرتبہ گواہوں کی تسلی کے لئے ہوتا ہے۔ آپ ہماری ذہنی خلش کو دُور فرمادیں، کیا یہ نکاح دُرست ہوئے ہیں؟

جواب:۔

صرف ایک دفعہ کے ’’قبول ہے‘‘ سے بھی نکاح ہوجاتا ہے، اور لڑکی نے جب دستخط کردئیے تو گویا اپنی رضامندی سے مولوی صاحب کو وکیل بنادیا، اس لئے نکاح صحیح ہے۔(۱)

  1. (۱) والعلم للوکیل بالتوکیل (إلٰی قولہ) ویثبت العلم اما بالمشافھۃ أو الکتاب إلیہ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۱۴۰)۔