طریقِنکاحاوررُخصتی
ٹیلیفونپرنکاحنہیںہوتا
سوال:۔
ٹیلی فون پر نکاح ہوتا ہے یا نہیں؟ میرا بھائی امریکا میں ہے اور اس کی جہاں شادی کی بات چل رہی تھی تو لڑکی والوں نے اچانک جلدی کرنا شروع کردی۔ لڑکا اتنی جلدی نہیں آسکتا تھا، اس لئے فوری طور پر ٹیلی فون پر نکاح کرنا پڑا، ابھی رُخصتی نہیں ہوئی ہے، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ نکاح نہیں ہوا۔
جواب:۔
نکاح کے لئے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول مجلسِ عقد میں گواہوں کے سامنے ہو،(۱) اور ٹیلی فون پر یہ بات ممکن نہیں، اس لئے ٹیلی فون پر نکاح نہیں ہوتا۔ اور اگر ایسی ضرورت ہو تو ٹیلی فون پر یا خط کے ذریعہ لڑکا اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنادے اور وہ وکیل لڑکے کی طرف سے ایجاب وقبول کرلے۔(۲) چونکہ آپ کی تحریر کردہ صورت میں نکاح نہیں ہوا اس لئے اب رُخصتی سے پہلے ایجاب وقبول گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ کرالیا جائے۔
- (۱) شرائط الْإیجاب والقبول: فمنھا إتحاد المجلس إذا کانا الشخصان حاضرین فلو اختلف المجلس لم ینعقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۹)۔ وشرط (حضور) شاھدین۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۸)۔
- (۲) یصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضرہ الشھود۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۴، کتاب النکاح، طبع رشیدیہ)۔

