طریقِنکاحاوررُخصتی
لڑکی،لڑکےکاٹیلیفونپراِیجابوقبولکرنا
سوال:۔
ایک ماہ قبل ایک آشنا لڑکی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ایک دُوسرے کو کہا کہ ہم فلاں پسر فلاں اتنے حق مہر کے عوض آپ کو قبول ہیں؟ اسی طرح اس محترمہ نے بھی یہ لفظ دُہرائے کہ ہم فلاں بنت فلاں آپ کی زوجیت کے طور پر آپ کو قبول ہیں۔ اور یہ الفاظ تین بار دُہرائے گئے اور اس کے بعد حقِ زوجیت تو اَدا نہیں کیا، لیکن اب اس کے والدین اس کی شادی کہیں دُوسری جگہ کر رہے ہیں، برائے مہربانی بتائیں اسلام کی رُو سے یہ قبولیت نکاح کہلائے گی یا نہیں؟
جواب:۔
ٹیلی فون پر اس قسم کی آوارہ گفتگو سے نکاح نہیں ہوتا۔ نکاح کا شریفانہ طریقہ یہ ہے کہ لڑکی کے والدین سے رشتے کی مانگ کی جائے، وہ راضی ہوں تو مجلسِ نکاح میں گواہوں کے رُوبرو نکاح کا اِیجاب وقبول کیا جائے۔(۱)
- (۱) شرائط الْإیجاب والقبول فمنھا إتحاد المجلس إذا کانا الشخصان حاضرین فلو اختلف المجلس لم ینعقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۹ کتاب النکاح، طبع بیروت)۔

