بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

لڑکے‌کی‌غیرحاضری‌میں‌والد‌کا‌اُس‌کی‌طرف‌سے‌اِیجاب‌وقبول‌کرنا

سوال:۔

اگر لڑکا ملک سے باہر ہو تو کیا لڑکے کا باپ لڑکے کی غیرموجودگی میں اس کی مرضی کو جانتے ہوئے نکاح کے وقت قاضی کے سامنے یہ کہہ کر کہ ’’مجھے اپنے لڑکے کے لئے اس لڑکی کا رِشتہ منظور ہے‘‘ اپنے لڑکے کا نکاح کرسکتا ہے؟ کیا نکاح کے وقت لڑکا فون پر اپنی مرضی قاضی کے سامنے بیان کرسکتا ہے؟ اگر بیرونِ ملک مقیم لڑکا کسی شخص کو نکاح کے لئے اپنا وکیل مقرّر کردے اور وہ شخص اس لڑکے کی طرف سے اِیجاب وقبول کرلے تو کیا نکاح ہوجائے گا؟

جواب:۔

اگر لڑکے کا والد لڑکے کی اِجازت کے ساتھ اِیجاب وقبول کرلے تو یہ اِیجاب وقبول لڑکے کی طرف سے سمجھا جائے گا اور نکاح صحیح ہوگا۔(۱)

۲:۔ اور اگر لڑکے نے اِجازت نہیں دی تھی، اس کے باوجود لڑکے کے والد نے لڑکے کی طرف سے اِیجاب وقبول کرلیا، اور اِطلاع ملنے پر لڑکے نے اس کو رَدّ نہیں کیا، بلکہ قبول کرلیا تو نکاح ہوجائے گا۔(۲)

۳:۔ اور اگر لڑکے نے ٹیلی فون پر نکاح خواں کو اپنی رضامندی بتادی اور پھر کسی شخص نے لڑکے کی طرف سے وکیل بن کر اِیجاب وقبول کرلیا تو بھی نکاح ہوگیا۔

  1. (۱) ویصح التوکیل بالنکاح وإن لم یحضر الشھود۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۴، طبع بلوچستان)۔
  2. (۲) رجل زوّج رجلًا إمرأۃ بغیر إذنہ فبلغہ الخبر فقال: نعم ما صنعت أو بارک اللہ لنا فیھا، أو قال: أحسنت أو أصبت کان إجازۃ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۹۹، طبع بلوچستان)۔