طریقِنکاحاوررُخصتی
الگالگشہروںمیںاورمختلفگواہوںسےایجابوقبولنہیںہوتا
سوال:۔
میری شادی اس طرح ہوئی کہ میں اپنے گاؤں میں تھی اور وہ لڑکا (جو اَب میرا شوہر ہے) کراچی میں مقیم تھا، ہم آپس میں مل نہیں سکتے تھے، چنانچہ میرے شوہر نے مجھے لکھا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، بہ عوض بیس ہزار روپے مہر کے، اگر قبول ہو تو فارم پر دستخط کردیں۔ اس فارم پر میرے شوہر کے دستخط اور دو گواہوں کے دستخط تھے۔ ادھر میں نے بھی اسی فارم پر دستخط کئے اور میری دو سہیلیوں اور ایک مرد کو (جو میری سہیلی کا بھائی تھا) گواہ کیا، ان سے بھی دستخط لئے، بعد میں میرے شوہر آئے اور ہم چپ چاپ کراچی آگئے۔ اب جبکہ ہماری اولاد بھی ہوگئی ہے، میرے والدین کہتے ہیں کہ تمہارا نکاح غلط تھا۔ یہ بتائیے کہ جن حالات میں، میں تھی اور جیسے ہم نے دُور دو الگ مقامات پر رہ کر نکاح کیا ہے، دِل سے ہم نے قبول کیا، تو کیا یہ نکاح صحیح نہ تھا؟ بعد میں بہرحال ہم نے یہ بھی کرلیا کہ سوِل کورٹ گئے اور وہاں قاعدے کے مطابق سب کچھ کرلیا، مگر کیا اس سے پہلے ہم میاں بیوی ’’حرام‘‘ کے مرتکب ہوئے؟
جواب:۔
آپ کا نکاح دُرست نہیں تھا، اس لئے کہ نکاح میں اِیجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہونا چاہئے۔(۱) اور مزید یہ کہ نکاح کے گواہ دُولہا اور دُلہن دونوں کے مشترکہ ہونے چاہئیں،(۲) جبکہ یہاں نہ تو اِیجاب و قبول زبانی ہوا اور نہ ایک مجلس میں ہوا، اور گواہ بھی مشترکہ نہیں تھے، بلکہ شوہر کے گواہ کراچی میں تھے اور آپ کے گواہ گاؤں میں تھے۔ سوِل کورٹ میں جاکر آپ نے شرعی ضابطے کے مطابق شادی کرلی ہے تو آپ میاں بیوی ہیں، جبکہ اس سے قبل آپ دونوں حرام کے مرتکب ہوئے، خدا سے مغفرت طلب کریں۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آپ کے سوال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والدین اس نکاح میں شریک نہیں ہوئے، ورنہ پہلے ’’خفیہ نکاح‘‘ کرنے کی اور بعد میں سوِل کورٹ جاکر نکاح کرنے کی ضرورت پیش کیوں آتی؟ سو ایسا نکاح جو والدین کی اِجازت کے بغیر کیا جائے اس کا حکم یہ ہے کہ اگر لڑکا ہر اِعتبار سے لڑکی کے جوڑ کا ہو تب تو نکاح صحیح ہے، ورنہ صحیح نہیں، خواہ عدالت میں کیا گیا ہو۔ پس اگر آپ کے شوہر آپ کے جوڑ کے ہیں تو سوِل کورٹ میں جو نکاح کیا گیا وہ صحیح ہے، اور اگر آپ کے شوہر کم تر حیثیت کے مالک ہیں تو سوِل کورٹ والا نکاح نہیں ہوا، والدین کی اِجازت کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جائے۔(۳)
- (۱) شرائط الْإیجاب والقبول فمنھا إتحاد المجلس إذا کانا الشخصان حاضرین فلو اختلف المجلس لم ینعقد۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۳، کتاب النکاح، طبع بیروت)۔
- (۲) وشرط حضور شاھدین أی یشھدان علی العقد۔ (شامی ج:۳ ص:۲۱، کتاب النکاح، طبع سعید کراچی)۔
- (۳) ان المرأۃ إذا زوجت نفسھا من کفؤ لزم علی الأولیاء وإن زوجت من غیر کفؤ لَا یلزم۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۸۴)۔

