طریقِنکاحاوررُخصتی
نکاحکےلئےایجابوقبولایکمرتبہبھیکافیہے
سوال:۔
ایک بڑی مسجد کے قاضی صاحب جب نکاح پڑھاتے ہیں وہ ’’قبول ہے‘‘ صرف ایک مرتبہ پوچھتے ہیں، جبکہ دُوسری تمام مساجد میں تین مرتبہ قبول کرایا جاتا ہے، بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ ایک مرتبہ کہنے سے نکاح نہیں ہوتا، بلکہ تین مرتبہ ’’قبول ہے‘‘ کہنا پڑتا ہے۔
جواب:۔
ایک مرتبہ ایجاب و قبول سے بھی نکاح ہوجاتا ہے،(۱) تین مرتبہ دُہرانا محض پختگی کے خیال سے ہوتا ہوگا۔
- (۱) ویحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

