بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

کیا‌مرد‌اور‌عورت‌بغیر‌مولوی‌کے‌نکاحِ‌جدید‌کرسکتے‌ہیں؟

سوال:۔

کیا نکاحِ جدید کسی مولوی سے ہی پڑھوایا جائے جیسا شادی کے موقع پر ہوتا ہے؟ اگر ہم یہ چاہیں کہ کسی کے علم میں یہ بات نہ آئے تو آپس میں ہی ایجاب وقبول کرسکتے ہیں؟ یا پھر کسی ایک فرد کے سامنے خواہ وہ عورت ہو یا مرد کرسکتے ہیں؟ اور مہر بھی مقرّر کرنا ہوگا؟

جواب:۔

دو عاقل وبالغ گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرلیا جائے اور کچھ مہر بھی مقرّر کرلیا جائے، بس ہوگیا نکاح، نہ میاںجی کو بلانے کی ضرورت اور نہ دعوت کی۔(۱)

  1. (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول (إلٰی قولہ) عند حُرّین أو حُرّ وحُرّتین عاقلین بالغین مسلمین۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷)۔ وأیضًا: ثم المھر واجب شرعًا ابانۃ لشرف المحل۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۴۲، کتاب النکاح، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔