طریقِنکاحاوررُخصتی
دُولہاکا’’قبولہے‘‘ایکبارکہنا،نیزدُولہاکاصرفدستخطکرنا
سوال:۔
زمانے سے یہ دیکھتا آیا ہوں کہ نکاح خواں دُلہن سے اِجازت ملنے کے بعد دُولہا سے بھی وکیل اور گواہان کی موجودگی میں نکاح کو قبول کرواتے ہیں، اور یہ تین بار دُہراتے ہیں، مگر ابھی ایک شادی میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں میں نے دیکھا کہ نکاح خواں نے دُلہن سے اِجازت ملنے کے بعد پہلے خطبہ پڑھا اور اس کا مطلب بیان کیا، پھر لوگوں سے دُولہا اور دُلہن کا نام لے کر کہا کہ یہ نکاح ان کے درمیان ہو رہا ہے، یہ کہنے کے بعد انہوں نے صرف دُولہا سے دستخط کروایا مگر ان سے روایت کے مطابق ایجاب وقبول نہیں کروایا جو کہ سب کے لئے ایک انوکھا تھا۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح طریقہ نکاح کا کیا ہے؟ اور یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ جواب مرحمت فرمائیں، نوازش ہوگی۔
جواب:۔
لڑکی سے تو اِجازت لی جاتی ہے کہ فلاں لڑکے کے ساتھ اتنے مہر کے عوض اس کا نکاح کیا جارہا ہے، اور لڑکے سے یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں لڑکی کا نکاح اتنے مہر کے عوض تم سے کیا جاتا ہے، یہ ’’اِیجاب‘‘ ہوا، اور لڑکا اس کو قبول کرتا ہے، یہ ’’قبول‘‘ ہوا۔ ایجاب وقبول کے بغیر صرف دستخط کرنے سے نکاح نہیں ہوتا، اور اِیجاب وقبول کے الفاظ کو صرف ایک بار کہنا کافی ہے، تین بار دُہرانے کی ضرورت نہیں۔(۱)
- (۱) وینعقد بالْإیجاب والقبول۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۷)۔ وأما رُکنہ فالْإیجاب والقبول کذا فی الکافی۔ والْإیجاب ما یتلفظ بہ أوّلًا من أیّ جانب کان والقبول جوابہ ھٰکذا فی العنایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۶۷، طبع بلوچستان)۔

