بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

نکاح‌کے‌وقت‌کلمے،‌دُرود‌وغیرہ‌پڑھانا

سوال:۔

ہمارے ہاں شادی بیاہ میں بعض اوقات تو کوئی قاضی بہت سے کلمے، کلمات، دُرود وغیرہ پڑھاتا ہے، اور بعض قاضی مختصر اور جلد نکاح کرادیتے ہیں، آپ یہ بتائیں کہ ایک مسلمان کے لئے نکاح کن کلموں، کلمات سے ہوجاتا ہے؟ اور کن کے بغیر نہیں ہوسکتا؟

جواب:۔

نکاح ایجاب و قبول سے ہوجاتا ہے،(۱) خطبہ اس کے لئے سنت ہے،(۲) دو گواہوں کا ہونا اس کے لئے شرط ہے۔(۳) قاضی صاحبان جو کلمے پڑھاتے ہیں وہ کچھ ضروری نہیں، غالباً ان کلموں کا رِواج اس لئے ہوا کہ لوگ جہالت کی وجہ سے بسااوقات کلماتِ کفر بک دیتے ہیں اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کلمۂ کفر زبان سے کہہ کر اِسلام سے خارج ہو رہے ہیں۔ نکاح سے پہلے کلمے پڑھادئیے جاتے ہیں تاکہ خدانخواستہ ایسی صورت پیش آئی ہو تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں تب نکاح ہو۔ بہرحال نکاح سے پہلے کلمے پڑھانا کوئی ضروری نہیں اور کوئی بُری بات بھی نہیں۔

  1. (۱) وینعقد أی النکاح أی یثبت ویحصل انعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۹)۔
  2. (۲) ویندب إعلانہ وتقدیم خطبۃ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح)۔
  3. (۳) وشرط (حضور) شاھدین حرین أو حر وامرأتین مکلفین سامعین کلامھما ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۲۱ کتاب النکاح، أیضًا: ھدایۃ ج:۲ ص:۳۰۶، کتاب النکاح، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔