بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

طریقِ‌نکاح‌اور‌رُخصتی

نکاح‌میں‌ایجاب‌و‌قبول‌اور‌کلمے‌پڑھانے‌کا‌کیا‌مطلب‌ہے؟

سوال:۔

کافی عرصہ پہلے ایک دوست کی شادی میں شرکت کی، نکاح کے وقت نکاح خواں نے لڑکے سے قبول کے بعد پہلے تین کلمے پڑھائے، پھر دُعا کی۔ کچھ دن پہلے ایک اور دوست کی شادی میں شرکت کی، وہاں پر مولوی صاحب نے لڑکے سے تین مرتبہ قبول کرانے کے بعد دُعا کردی اور کلمے نہیں پڑھائے، لہٰذا یہ تحریر فرمائیں کہ کلمے پڑھنے والا نکاح صحیح تھا یا کہ بغیر کلمے کے؟ نیز قبول و ایجاب کے معنی بھی بتائیے۔

جواب:۔

نکاح کے لئے ایجاب و قبول شرط ہے، یعنی ایک طرف سے کہا جائے کہ: ’’میں نے نکاح کیا‘‘ اور دُوسری طرف سے کہا جائے: ’’میں نے قبول کیا‘‘۔(۱) ایجاب و قبول ایک بار کافی ہے، تین بار کوئی ضروری نہیں، اور کلمے پڑھانا بھی کوئی شرط نہیں، مگر آج کل لوگ جہالت کی وجہ سے کفر کی باتیں بکتے رہتے ہیں، اس لئے بعض مولوی صاحبان کلمے پڑھادیتے ہیں تاکہ اگر لڑکے نے نادانی سے کبھی کلمۂ کفر بک دیا ہو تو کم سے کم نکاح کے وقت تو مسلمان ہوجائے۔

  1. (۱) (وینعقد) متلبسًا (بإیجاب) من أحدھم (وقبول) من الآخر۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۹، کتاب النکاح)۔