طریقِنکاحاوررُخصتی
نکاحکامسنونطریقہ
سوال:۔
نکاح کا طریقہ کیا ہے؟ زمانہ بدلنے کے ساتھ بہت سی باتیں بدلی ہیں، کیا وہ طریقہ جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، وہی طریقہ دُرست ہے یا کہ کونسی باتیں ایسی ہیں کہ جو اگر شاملِ نکاح کرلی جائیں تو جائز ہیں؟
جواب:۔
نکاح کا سنت طریقہ وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے نکاح میں اِختیار فرمایا۔ اس کا خلاصہ مولانا شبلی نعمانی نے ’’سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں حسبِ ذیل الفاظ میں قلم بند فرمایا ہے:
’’حضرت علیؓ نے خواہش ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس مہر اَدا کرنے کو کچھ ہے؟ بولے: ایک گھوڑا اور زِرہ کے سوا کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا: گھوڑا تو لڑائی کے لئے ضروری ہے، زِرہ کو فروخت کرڈالو۔ حضرت عثمانؓ نے ۴۸۰ درہم پر خریدی اور حضرت علیؓ نے قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو حکم دیا کہ بازار سے خوشبو لائیں، عقد ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہیز میں ایک پلنگ اور ایک بستر دیا۔ ’’اِصابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’آپ نے ایک چادر، دو چکیاں اور ایک مشک بھی دی۔‘‘ اور یہ عجیب اِتفاق ہے کہ یہی دو چیزیں عمر بھر ان کی رفیق رہیں۔
نکاح کے بعد رسمِ عروسی کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ایک مکان لے لیں، چنانچہ حارث بن نعمان کا مکان ملا اور حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کے ساتھ اس میں قیام کیا‘‘ (سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ج:۲ ص:۴۲۸ طبع کراچی)۔

