بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

منگنی‌اور‌نکاح‌میں‌فرق

سوال:۔

آج کل منگنی کی رسم کے اندر لڑکا اور لڑکی کے خاندان کے چیدہ چیدہ افراد جمع ہوتے ہیں، باقاعدہ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں، اور خوب زور وشور سے منگنی کی رسم کا چرچا کیا جاتا ہے، اور انگوٹھیاں ایک دُوسرے کو پہنائی جاتی ہیں، جو کہ ایک قسم کا اِعلان ہے، اور ہم نے سنا ہے کہ نکاح بھی اِعلان ہی کو کہا جاتا ہے، خطبے کی حیثیت مسنون ہے، بعد میں اگر فریقین کی آپس میں بنتی نہ ہو تو لڑکی والے یا کوئی بھی انگوٹھی پھینک دیتے ہیں جو کہ رشتے کے ختم ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جب نکاح اِعلان کا نام ہے تو مذکورہ صورت میں نکاح ہوجانا چاہئے، اور اس کے ختم کے لئے طلاق ہونی چاہئے، جبکہ یہاں ہر لڑکے کی طرف سے طلاق نہیں ہوتی اور لڑکی دُوسری جگہ شادی کرلیتی ہے، تو یہ شادی کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب:۔

منگنی اور نکاح میں فرق ہے۔ ’’منگنی‘‘ نام ہے رشتہ تجویز کردینے کا، اور ’’نکاح‘‘ نام ہے اِیجاب وقبول کے ذریعے دونوں کے درمیان عقد کردینے کا۔(۱) منگنی کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ جب تک باقاعدہ ایجاب وقبول نہیں ہوجاتا دونوں میاں بیوی نہیں۔ اس لئے آپ کا منگنی کو نکاح کے قائم مقام سمجھنا غلط ہے۔(۲)

  1. (۱) ویعنقد أی النکاح أی یبثت ویحصل إنعقادہ بالْإیجاب والقبول۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۹)۔
  2. (۲) قال فی شرح الطحاوی: لو قال: ھل اعطیتنیھا؟ إن کان المجلس للوعد فوعد وإن کان للعقد فنکاح۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۱، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔