بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منگنی

لڑکا‌دِین‌دار‌نہ‌ہو‌تو‌کیا‌منگنی‌توڑ‌سکتے‌ہیں؟

سوال:۔

۱: ہماری ایک بیٹی ہے، ہمارے گھرانے کو الحمدللہ دِین دار کہہ سکتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی بیٹی کی منگنی ایک دِین دار لڑکے کے بجائے ایک دُنیادار لڑکے سے کی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ اگر ایک دِین دار لڑکے سے کرتے تو ان کی اولاد اِن شاء اللہ حافظِ قرآن اور باعمل عالم ہوتی، اس کے برعکس ان کے گھر میں ٹی وی، وی سی آر اور ہر طرح کی لغویات ہیں، جس کی وجہ سے ہماری بیٹی کے اعمال بھی خراب ہوں گے۔ مجھے یہ خوف دامن گیر ہے کہ اس رشتے کے ذمہ دار ہم ہیں، تو کیا آخرت میں ہماری بیٹی کے متوقع گناہوں کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی؟ کیونکہ ایک باشرع رشتے کے موجود ہوتے ہوئے دُوسری جگہ کا انتخاب کیا جارہا ہے، کیا اس بارے میں قرآنی آیات یا احادیثِ مبارکہ ہیں؟ اگر ہیں تو اَز راہ کرم مجھ کو ضرور مطلع فرمائیں۔

سوال۲:۔

اور شرعی لحاظ سے رشتے کے سلسلے میں کیا چیزیں دیکھنا ضروری ہیں کہ جن کا خیال رکھا جائے؟

سوال۳:۔

کیا منگنی وعدے کے ضمن میں ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس کو ختم کرسکتے ہیں؟ اور اگر میں ختم کروں تو گنہگار تو نہ ہوں گی؟

جواب:۔

۱:۔یہ تو ظاہر ہے کہ جب آپ اپنی بیٹی کا رشتہ ایک ایسے لڑکے سے کریں گی جو دِین سے بے بہرہ ہے تو متوقع گناہوں کا وبال آپ پر بھی پڑے گا، اور قیامت کے دن ان گناہوں کا خمیازہ آپ کو بھی بھگتنا ہوگا۔ قرآنِ کریم اور احادیث شریفہ میں یہ مضمون بہت کثرت سے آیا ہے کہ جو شخص کسی نیکی کا ذریعہ بنے، اس کو اس نیکی میں برابر کا حصہ ملے گا، اور نیکی کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اور جو شخص کسی گناہ اور بُرائی کا ذریعہ بنے گا، اس کو اس گناہ میں بھی برابر کا حصہ ملے گا، اور گناہ کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔(۱)

جواب۲:۔

رشتہ تجویز کرتے ہوئے والدین خود ہی بہت سی چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہیں، حسب و نسب، مال و متاع اور ذریعہ معاش کے علاوہ اخلاق و کردار کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے، شریعت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی دِین داری کو بطورِ خاص ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے حسب ونسب، اس کے حسن و جمال، مال و متاع اور دِین کی خاطر نکاح کیا جاتا ہے، تم دِین دار کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔(۲)

جواب۳:۔

منگنی وعدہ ہے،(۳) اور اگر لڑکا دِین دار نہ ہو تو اس رشتے کو ختم کرنا جائز بلکہ ضروری ہے۔

  1. (۱) عن بلال بن الحارث المزنی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من احیی سنۃ من سنتی قد امیتت بعدی فإن لہ من الأجر مثل اُجور من عمل بھا من غیر أن ینقص من اُجورھم شیئًا، ومن ابتدع بدعۃ ضلالۃ لَا یرضاھا اللہ ورسولہ کان علیہ من الْإثم مثل آثام من عمل بھا، لَا ینقص ذٰلک من أوزارھم۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تنکح المرأۃ لأربع: لمالھا، ولحسبھا، ولجمالھا، ولدینھا، فاظفر بذات الدین تربت یداک۔ (مشکوٰۃ ص:۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأوّل)۔
  3. (۳) قال فی شرح الطحاوی: لو قال: ھل اعطیتنیھا؟ إن کان المجلس للوعد فوعد وإن کان للعقد فنکاح۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۲)۔ فالمراد بالوعد فی الحدیث الوعد بالخیر وأما الشر فیستحب إخلافہ وقد یجب ما لم یترتب علی ترک إنفاذہ مفسدۃ۔ (فتح الباری ج:۱ ص:۹۰، طبع لَاھور)۔